عیدالفطر کے قریب آتے ہی سعودی دستر خوان انتہائی لذیذ قسم کی مٹھائیوں سے سجنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ مٹھائیاں جشن کی روایات کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ خاندان کے افراد انہیں تیار کرنے یا انہیں مخصوص سٹورز سے خریدنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسے منظر ہوتا ہے جس کا تعلق کمیونٹی کے مقبول ورثے سے ہوتا ہے اور یہ عید کی خوشی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سال بھی عید کے قریب آتے ہی سعودی بازاروں کے درمیان مٹھائیوں کے طلب گاروں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو رہا ہے۔ ان مصنوعات کا مقامی معیشت میں کردار بھی بڑھ رہا ہے۔
عید کے دوران پیش کی جانے والی مٹھائیوں میں روایتی اشیا، جو مقامی ثقافت سے جڑی ہوئی ہیں، میں المعمول، الكليجا اور الدبيازة شامل ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی کھانوں سے متاثر جدید اشیا ہیں جن میں لگژری چاکلیٹ، چیز کیک اور کپ کیکس شامل ہیں۔ عید جہاں مٹھائی کے شعبے کے لیے بہترین سیزن ہے وہاں ماہرین صحت ان مٹھائیوں کے زیادہ استعمال کے خطرات سے خبردار بھی کرتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں کے لیے ان کے منفی اثرات کو بیان کیا جاتا ہے۔
سعودی عرب کے مختلف خطوں میں روایتی مٹھائیاں بڑے پیمانے پر مقبول ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ انہیں گھر پر تیار کرنے کے خواہشمند ہیں اور دیگر انہیں خصوصی سٹورز سے تیار شدہ خریدنا پسند کرتے ہیں۔
فعال تجارتی سرگرمیاں
اقتصادی رپورٹس بتاتی ہیں کہ عید کے سیزن کے دوران سعودی عرب میں مٹھائی کے شعبے میں عام دنوں کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس عرصے کے دوران سعودیوں کی مٹھائی کی کھپت کا تخمینہ 500 ٹن سے زیادہ ہے۔ لگژری چاکلیٹ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنوعات میں سے ایک ہے کیونکہ یہ ہسپتالوں کی خریداری یا تحفے کے لیے بھی عام طور پر خریدی جاتی ہے۔
مٹھائی ایک اربوں ریال کی صنعت
کنفیکشنری کا شعبہ سعودی عرب میں خوراک کے سب سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں سے ایک ہے جس کی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 35 بلین سعودی ریال ہے۔ یہ شعبہ سعودی عرب کے مختلف خطوں میں 1,066 سے زائد کارخانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مقامی کارخانے مارکیٹ کا سب سے بڑا حصہ بناتے ہیں کیونکہ سعودی برانڈز کا پیداوار پر 92 فیصد غلبہ ہے۔ مارکیٹیں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے بڑی مقدار میں بین الاقوامی چاکلیٹ اور مٹھائیاں بھی درآمد کر رہی ہیں۔
اکیلے ریاض میں 377 فیکٹریاں شامل ہیں، مکہ المکرمہ میں 294 فیکٹریاں ہیں، پھر القصیم میں 133 فیکٹریاں ہیں جو اس شعبے کے حجم اور اس کی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ مٹھائیاں بھی عید کے دوران خاندانی اخراجات کا ایک بڑا حصہ بن جاتی ہیں۔ اس عرصے کے دوران مٹھائیوں اور چاکلیٹ پر اوسطاً سعودی خاندان کے اخراجات کا تخمینہ 1000 سعودی ریال فی خاندان سے زیادہ ہے۔