حیرت انگیز : 4 ملکوں کی تاریخ کے وہ 10 روز جن میں کوئی پیدائش اور موت نہ ہوئی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اگر آپ کسی طرح وقت کی قید سے نکل کر ماضی میں واپس جا سکیں اور یورپ کی 16 ویں صدی عیسوی میں پہنچ جائیں تو آپ اُن حالات کا مشاہدہ کریں گے جن کو اُس وقت کی چار کیتھولک ریاستوں اٹلی، فرانس، اسپین اور پرتگال کے ساٹھ لاکھ سے زائد افراد نے گزارا تھا۔ ان سب لوگوں نے 4 اکتوبر 1582 کی رات سونے کے بعد جب اگلی صبح آنکھ کھولی، تو ایک حیران کن واقعہ اُن کا منتظر تھا۔

یہ حیرت ایسی تھی جس پر یقین کرنا مشکل تھا، اس لیے کہ ان افراد نے دیکھا کہ وہ وقت جو ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا ہے، اچانک ایک ہی جست میں 10 دن پیچھے چلا گیا۔ یوں جیسے وقت نے ایک چھلانگ لگائی ہو، جس نے اُنہیں 5 اکتوبر کے بجائے سیدھا 15 اکتوبر میں جگا دیا۔ بالکل ایسے جیسے کوئی شخص پیر کے دن سے براہِ راست اتوار تک چلا جائے، بغیر ان درمیانی دنوں سے گزرے۔

اسی لیے آپ کو اُن چاروں ممالک میں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو اُن "غائب" دنوں یعنی 5 سے 14 اکتوبر 1582 کے دوران پیدا ہوا ، فوت ہوا ہو یا اس کی شادی ہوئی ہو۔ گویا وہ دس دن تاریخ کا حصہ ہیں بھی اور نہیں بھی ... جیسے وقت میں ایک خلا آ گیا ہو۔

یہ وقت کی چھلانگ یورپ اور دنیا کے بیشتر حصوں کی تاریخ میں ایک منفرد واقعہ تھا، اس لیے کہ یہ ایک انتظامی فیصلے کے ذریعے ایسی غلطی درست کرنے کی کوشش تھی جو تقریباً 1600 سال تک چلی آ رہی تھی۔ اس فیصلے نے ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی، جب "گریگورین کیلنڈر (Gregorian Calendar) کو اختیار کیا گیا۔ ، جس کو پوپ گریگوری سَیزدہم (Gregory XIII) نے پورے یورپ میں رائج کیا۔

یہ نیا کیلنڈر اُس پرانے "جولیَن کیلنڈر" (Julian Calendar) کی اصلاح کے لیے متعارف کروایا گیا جو اُس وقت رائج تھا۔ اس کا نام اُس عظیم رومی رہنما جولیس سیزر سے لیا گیا، جس نے اسے 45 قبل مسیح میں یورپ میں رائج کیا تھا۔ جولیس سیزر کا کیلنڈر ایک قدیم مصری ماڈل پر مبنی تھا، لیکن اُس میں ایک معمولی سا حسابی نقص موجود تھا۔ وہ سورج کی سالانہ گردش کو 365 دن اور 6 گھنٹے پر مبنی سمجھتا تھا، جب کہ حقیقت میں شمسی سال کی درست مدت 365 دن، 5 گھنٹے، 48 منٹ، اور 45 سیکنڈ ہے۔

یہ چھوٹا سا فرق ہر سال میں تقریباً 11 منٹ کا اضافہ کرتا گیا، جو صدیوں میں جمع ہو کر کیلنڈر کو اصل موسمی چکر سے دُور لے گیا۔ یُوں پوپ گریگوری نے وقت کو "درست" کرنے کے لیے تاریخ کو 10 دن آگے کھسکا دیا، گویا وقت کو ایک ہی جست میں نئی ہم آہنگی دے دی گئی ہو۔

اس طرح پوپ گریگوری سَیزدہم نے فیصلہ کیا کہ وہ اس تاریخی غلطی کو درست کریں گے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کیلنڈر میں ایسی ترمیم کی جو فلکیاتی حسابات اور مذہبی تقاضوں، دونوں سے مطابقت رکھتی ہو۔ بالخصوص اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اِیسٹر (Easter)، جو بہار کے پہلے مکمل چاند کے بعد آنے والے پہلے اتوار کو منائی جاتی ہے، اصل موسمی بہار سے ہم آہنگ رہے۔

اس مقصد کے لیے اُن کے پاس صرف ایک ہی حل تھا ... وہ یہ کہ 10 دنوں کو کیلنڈر سے مکمل طور پر حذف کر دیں۔ چنانچہ 4 اکتوبر 1582 کے فوراً بعد کیلنڈر میں اگلا دن سیدھا 15 اکتوبر قرار پایا۔ یوں گریگورین کیلنڈر جسے آج بھی ہم "عیسوی کیلنڈر" یا "میلادی کیلنڈر" کہتے ہیں، باقاعدہ طور پر لاگو ہو گیا۔ یہ یورپ کی کیتھولک ریاستوں میں وقت کا نیا معیار بن گیا۔

یہ تبدیلی اُس وقت دنیا کے بیشتر حصوں پر لاگو نہیں ہوئی، جیسا کہ آج کے دور میں ہے کیوں کہ بہت سی غیر کیتھولک ریاستوں نے، جو پوپ کی مذہبی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتی تھیں اس کیلنڈر کی ابتدا میں مزاحمت کی۔ اس مخالفت نے دنیا میں وقتی اختلاف پیدا کیا، جو تقریباً دو صدیوں تک برقرار رہا۔

یہاں تک کہ 1752 میں برطانیہ اور اس کی نوآبادیات (جن میں آج کا امریکہ بھی شامل تھا) نے گریگورین کیلنڈر کو اختیار کیا۔ اس کے بعد روسی آرتھوڈوکس چرچ نے 1917 کی کمیونسٹ انقلاب کے بعد اسے اپنایا، اور پھر یونان نے بھی پانچ سال بعد اس کی پیروی کی۔

وقت کے ساتھ گریگورین کیلنڈر نے اپنی برتری ثابت کی، کیوں کہ وہ موسمی چکروں اور فلکیاتی حسابات کے ساتھ زیادہ درست ہم آہنگی رکھتا ہے۔ یوں یہ کیلنڈر دنیا کی بیشتر اقوام کا معیاری نظامِ وقت بن گیا۔ البتہ کچھ ممالک اور مذاہب آج بھی مخصوص عبادات اور روایات کے لیے مقامی یا مذہبی تقویم (جیسے ہجری، عبری، یا چینی کیلنڈر) کو استعمال کرتے ہیں۔

گریگوری سیزدہم نے جب اپنے نئے کیلنڈر سے دس دن نکالے، تو صرف ایک فلکیاتی غلطی کو درست نہیں کیا بلکہ انھوں نے ایک ایسا پہلو بھی اجاگر کیا جو ہمیشہ یاد دہانی کراتا ہے کہ درست انتظامی فیصلے بہت سی رکاوٹوں کو بغیر کسی ہنگامے یا مسئلے کے حل کر سکتے ہیں۔ ان ہی فیصلوں میں سے ایک وہ تھا جس کے ذریعے محض ایک قلم کی جنبش سے دس دنوں کی جگہ ایک رات رکھ دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں