وہ 7 غذائیں جو ہاضمہ بہتر بنا کر آنتوں کی صحت مضبوط کرتی ہیں

ان میں نمایاں ترین دال، کیفیر، چیا کے بیج اور سرخ یا جامنی بند گوبھی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ڈاکٹر سوراب سیٹھی ... ہارورڈ اور اسٹینفورڈ یونیورسٹیوں سے تربیت یافتہ نظامِ ہاضمہ کے ماہر ہیں۔ انھوں نے چند مخصوص غذائیں تجویز کی ہیں جو آنتوں کی صحت اور نظامِ ہضم کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

بھارتی اخبار "ٹائمز آف انڈیا" کے مطابق آنتوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر سیٹھی کہنا ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی خوراک پر نظرِ ثانی کریں، کیونکہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں، وہ ہماری آنتوں کی صحت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

انہوں نے آنتوں کی صحت اور بہتر ہضم کے لیے درج ذیل سات غذائیں تجویز کی ہیں:

1 - دال

دال ہر فرد کی دسترس میں ہے۔ ڈاکٹر سیتھی کے مطابق، دال ریشہ (فائبر) اور پری بائیوٹکس سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ نظامِ ہضم کو متوازن رکھتی ہے، خون میں شکر کی سطح کو مستحکم رکھتی ہے اور آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش کو فروغ دیتی ہے۔

عدس آيستوك
عدس آيستوك

2 - کیفیر

اگرچہ دہی بھی آنتوں کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن ڈاکٹر سیٹھی کے مطابق کیفیر زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس میں دہی کی نسبت زیادہ متنوع پروبائیوٹکس پائے جاتے ہیں۔ کیفیر ہاضمے میں مدد دیتا ہے، موڈ اور جلد کی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اسے اسموتھی میں شامل کریں یا براہِ راست پی لیں تاکہ آنتوں کو مفید بیکٹیریا کی مناسب مقدار ملے۔

3 - چیا کے بیج

چیا کے بیج ریشہ، اومیگا-3 فیٹی ایسڈز اور پری بائیوٹکس سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر سیٹھی انہیں "چھوٹے مگر طاقت ور" قرار دیتے ہیں۔ ان میں موجود جیل نما فائبر آنتوں کی جھلی کو آرام پہنچاتا ہے، پاخانے کی کیفیت بہتر بناتا ہے اور ہاضمہ بہتر کرتا ہے۔ ایک بڑا چمچ چیا بیج پانی میں بھگو کر پینے سے واضح فرق محسوس کیا جا سکتا ہے۔

4 - سرخ یا جامنی بند گوبھی

ڈاکٹر سیٹھی سرخ یا جامنی گوبھی کو خوراک کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہیں، کیونکہ یہ مائیکروبیوم کو مضبوط کرتی ہے۔ اسے خمیر شدہ یا کچی حالت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خمیر شدہ گوبھی قدرتی پروبائیوٹکس فراہم کرتی ہے، جب کہ کچی گوبھی میں "سلفورافین" ہوتا ہے، جو آنتوں کی جھلی کی حفاظت کرتا ہے۔

5 - سبز کیلا اور ٹھنڈے آلو

سبز کیلے اور پکے ہوئے، پھر ٹھنڈے کیے گئے آلو مزے دار اور مفید انتخاب ہیں۔ ان میں "ریزسٹنٹ اسٹارچ" پایا جاتا ہے، جو پری بائیوٹک ہے اور خون میں شگر کی سطح بڑھائے بغیر مفید بیکٹیریا کی خوراک بنتا ہے۔

6 - سمندری سبزیاں

سی ویڈ یعنی سمندری سبزیاں پری بائیوٹک سے بھرپور ہوتی ہیں اور آنتوں کی صحت کے لیے ضروری معدنیات فراہم کرتی ہیں۔ ڈاکٹر سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ اینٹی بائیوٹک کے استعمال کے بعد مائیکروبیوم کو دوبارہ متوازن بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ انہیں سوپ میں ڈالیں یا ہلکی پھلکی غذا کے طور پر کھائیں۔

7 - پسی ہوئی السی

پسی ہوئی السی آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتی ہے۔ اس میں فائبر اور "لِگنان" پایا جاتا ہے، جو آنتوں کی حرکت اور مائیکروبیوم کی تنوع کو بہتر بناتا ہے۔ ڈاکٹر سیٹھی زور دیتے ہیں کہ السی کو پیس کر استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ مکمل بیج ویسا اثر نہیں دیتے۔ پسی ہوئی السی کو دلیے یا دہی پر چھڑک کر کھایا جا سکتا ہے تاکہ ہارمونی توازن اور آنتوں کی صحت میں بہتری آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں