یمن میں حوثیوں کو ڈرونز اور اسلحہ کی سمگلنگ کی کوشش ناکام
چینی سامان سے لدے تجارتی جہاز کی عدن بندرگاہ پر تلاشی، مشتبہ کنٹینرز سے عسکری آلات برآمد
یمن میں انسداد دہشت گردی کے ادارے نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کو بھیجی جانے والی ڈرون طیاروں اور اسلحے کے پرزہ جات کی سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ چین سے آنے والے ایک تجارتی جہاز پر موجود مشتبہ کنٹینرز کو عدن کی بندرگاہ پر روکا گیا جہاں تلاشی کے دوران یہ حساس سامان برآمد ہوا۔
بدھ کے روز جاری کیے گئے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی اٹارنی جنرل اور بندرگاہ کے فری زون سکیورٹی یونٹ کے تعاون سے کی گئی۔ قبضے میں لی گئی اشیاء میں ڈرون طیارے، وائر لیس آلات، جدید کنٹرول یونٹس اور دیگر عسکری سازوسامان شامل ہیں۔
اسرائیلی حملے کے بعد جہاز نے راستہ بدلا
بیان کے مطابق مذکورہ جہاز اصل میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ بندرگاہ "الحدیدہ" جا رہا تھا، لیکن حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد اس نے اپنا راستہ تبدیل کر کے عدن کا رُخ کیا۔
سکیورٹی حکام کو انٹیلی جنس ذرائع سے اس حساس کھیپ کے بارے میں پیشگی اطلاع ملی تھی، جس پر فوری طور پر قانونی کارروائی شروع کی گئی۔ 2 اگست کو عدن بندرگاہ پر محکمہ کسٹمز اور فری زون پولیس کے اشتراک سے مکمل تلاشی لی گئی اور تمام سامان عدالتی نگرانی میں تحویل میں لے لیا گیا۔
الحدیدہ بندرگاہ، اسلحہ سمگلنگ کا راستہ
بیان میں ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تفتیش کے نتائج نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ کو حوثیوں کے لیے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہے جو جدید عسکری ساز وسامان یمن منتقل کر رہا ہے۔
ذرائع نے عدن کی بندرگاہ پر مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو سراہا اور کہا کہ کسٹمز اور تلاشی ٹیموں نے قابلِ تعریف کردار ادا کیا۔
تحقیقات تاحال جاری ہیں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی جس میں ضبط شدہ سامان، اس کے ماخذ اور اس سے وابستہ عناصر کا ذکر شامل ہوگا، جن میں سرِفہرست حوثی گروہ ہے۔