اسرائیلی فوج کی غزہ میں پھر بمباری ، چار فلسطینی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی اسرائیلی فوج نے اپنی ہلاکت خیز کارروائیوں کو ہر جگہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انہی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں مزید چار فلسطینیوں کا قتل ہوا ہے۔ تاہم ثالث ایک بار پھر مذاکراتی عمل کی تیاری میں مصروف ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت نے پیر کے روز اسرائیلی بمباری سے زیر محاصرہ غزہ میں چار فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ قتل کیے گئے فلسطینیوں میں ایک فلسطینی خاتون بھی شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی بمباری کا ایک واقعہ وسطی غزہ کے علاقے زوائدہ میں ہوا، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی خاتون شہید ہوگئی۔ جبکہ بمباری کا دوسرا واقعہ ایک پناہ گزین کیمپ کو ہدف بنانے کی صورت پیش آیا ہے۔ یہ بمباری نصیرات کے مشہور پناہ گزین کیمپ میں کی گئی۔ اس سے بھی ایک فلسطینی جاں بحق ہو گیا۔

پیر کے ہی دن بعد ازاں اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں ایک عمارت کی چھت پر حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں دو اور فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ ان میں ایک فلسطینی طبی عملے کا کارکن اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا جاں بحق ہوئے۔

یاد رہے ایک روز قبل ہی جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج اب تک غزہ میں 73000 فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ان میں زیادہ تر شہدا کی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ان واقعات کے بارے میں کہا ہے کہ اس نے حماس کے دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ فوج کے بیان کے مطابق یہ جنگجو قابض فوجیوں ایک حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس تیاری کی کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اسرائیلی فوج کی غزہ میں یہ تازہ کارروائیاں ایسے واقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی امن بورڈ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے نمائندے قاہرہ پہنچنے والے تھے۔ امریکی نمائندے کا یہ دورہ قاہرہ حماس کے ان 15 نکاتی فارمولے کے لیے طے کیا گیا تھا جو حماس کی طرف سے پچھلے کئی مہینوں میں ثالثوں کے ساتھ رابطوں کے نتیجے میں تیار کیا گیا تاکہ امن معاہدہ آگے بڑھایا جاسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس نے مشروط طور پر ہتھیاروں سے دستبرداری سے بھی اتفاق کر لیا ۔ لیکن وہ چاہتی ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کا اںخلا ہو اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سیاسی و سفارتی عمل شروع کیا جائے۔

یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا نفاذ دس اکتوبر 2025 کو ہوا تھا۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس دوران بھی غزہ میں جگہ جگہ اپنے حملے اور بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

ڈیڈ لاک

اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے کہ ٹرمپ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ اسی دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا اور حماس کا ہتھیاروں سے دستبردار ہونا شامل ہے۔

حماس کی طرف سے پیر کے روز کہا گیا ہے کہ فلسطینی گروپوں کے رہنماؤں نے باہم مذاکرات کیے ہیں۔ اس عمل میں قطر ، مصر اور ترکیہ کے نمائندے بھی شریک رہے، یہ مذاکرات پچھلے ہفتے قاہرہ میں ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں