نظر کی درستی کی نئی تکنیک ... بغیر لیزر صرف ایک منٹ میں !
یہ تکنیک صرف ہلکی برقی رو کے استعمال پر مبنی ہے
سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے آنکھ کے قرنیہ کو دوبارہ شکل دینے کے لیے ایک نئی غیر جراحی تکنیک تیار کی ہے، جس میں ہلکی برقی رو اور تیزابیت میں عارضی تبدیلی استعمال کی جاتی ہے۔
ابتدائی تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ تکنیک روایتی سرجری کے بغیر "نزدیک بینی" کے علاج میں کامیاب رہی ہے اور یہ بصارت کی اصلاح کی ٹیکنالوجی میں لیزر سرجری (LASIK) کے بعد ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ نمایاں ہوتا طریقہ کار جسے "الیکٹرو مکینیکل ری شیپنگ" (EMR) کہا جاتا ہے، قرنیہ کو ہلکی برقی رو کے ذریعے دوبارہ شکل دیتا ہے۔ اسے اوکسڈینٹل کالج اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے تیار کیا اور اسے امریکی کیمیکل سوسائٹی کی خزاں 2025 کی میٹنگ میں پیش کیا گیا، یہ بات "نیو اٹلس" ویب سائٹ نے بتائی۔
محققین نے دریافت کیا کہ خاص طور پر تیار کردہ پلاٹینم "کانٹیکٹ لینس" الیکٹروڈ کے ذریعے ہلکی برقی رو دینے سے قرنیہ کے ٹشوز کی تیزابیت میں تبدیلی آتی ہے، جس سے یہ اتنے نرم ہو جاتے ہیں کہ انھیں دوبارہ شکل دی جا سکے۔ جیسے ہی برقی رو بند ہوتی ہے اور تیزابیت معمول پر آتی ہے، قرنیہ دوبارہ سخت ہو جاتا ہے اور سانچے کے مطابق اپنی شکل برقرار رکھتا ہے۔
یہ پورا عمل تقریباً ایک منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے اور اس میں کسی قسم کا کٹاؤ یا ٹشوز کو ہٹانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اب تک کیے گئے تجربات میں نہ تو کسی ساختی نقصان اور نہ ہی خلیوں کی موت کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ EMR ٹیکنالوجی مستقبل میں لیزک سرجری کی جگہ لے سکتی ہے۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور سرجن، برائن وونگ نے بتایا "یہ پورا عمل دراصل اتفاقیہ طور پر دریافت ہوا۔ میں زندہ ٹشوز کو قابلِ تشکیل مواد کے طور پر دیکھ رہا تھا اور اسی دوران یہ کیمیائی تبدیلی کا پورا عمل دریافت ہوا۔"
تاہم، EMR ٹیکنالوجی ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس پر صرف محدود تجربات ہی کیے گئے ہیں۔ تحقیق کے مرکزی محقق اور اوکسڈینٹل کالج کے کیمیا کے پروفیسر، مائیکل ہیل، نے کہا "ابھی جو کچھ حاصل کیا گیا ہے اور اس کے طبی و تجارتی استعمال کے درمیان لمبا سفر باقی ہے۔ لیکن اگر تجربات کامیاب ہو گئے تو یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر قابلِ عمل، کہیں زیادہ کم خرچ اور ممکنہ طور پر قابلِ واپسی بھی ہو سکتی ہے۔"