گوشت سرطان سے حفاظت کرتے ہیں، اس کا باعث نہیں بنتے: نئی تحقیق

تحقیق نے نباتاتی پروٹینز، جن میں دالیں، میوے اور سویا مصنوعات شامل ہیں، ان کا بھی جائزہ لیا اور یہ بات سامنے آئی کہ ان کا سرطان سے اموات کے خلاف کوئی مضبوط حفاظتی اثر نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

کینیڈا کے سائنس دانوں کی ایک حالیہ سائنسی تحقیق ایسے نتیجے پر پہنچی ہے جو دنیا بھر میں رائج خیال اور عالمی ادارہ صحت کے انتباہات سے بالکل مختلف ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ گوشت انسان کو سرطان سے بچا سکتا ہے، نہ کہ وہ بیماری پیدا کرے یا اس کے امکانات بڑھائے۔

عالمی ادارہ صحت کے سرطان سے متعلق شعبے نے سرخ گوشت کو "انسانوں کے لیے ممکنہ طور پر سرطان پیدا کرنے والا" قرار دیا تھا، تاہم نئی اور متنازع تحقیق اس رائے کو چیلنج کرتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ "حیوانی پروٹین سرطان سے اموات کو بڑھانے کے بجائے اس سے تحفظ دے سکتا ہے"۔

سائنسی امور سے متعلق ویب سائٹ "سائنس الرٹ" کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی کی یہ تحقیق عام رائج خیال کے برعکس نتائج پیش کرتی ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد زیادہ حیوانی پروٹین استعمال کرتے ہیں، ان میں حقیقت میں سرطان سے اموات کی شرح کم ہو سکتی ہے۔

تحقیق کے طریقہ کار میں کچھ باریک اور اہم فرق موجود ہیں جو اس کے نتائج کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ سرخ گوشت کو خاص طور پر پرکھنے کے بجائے محققین نے "حیوانی پروٹین" کا مطالعہ کیا، جس میں سرخ گوشت کے ساتھ مرغی، مچھلی، انڈے اور دودھ کی مصنوعات شامل ہیں۔ یہ فرق اس لیے نہایت اہم ہے کہ مچھلیاں، خاص طور پر تیل والی اقسام جیسے میکریل اور سارڈین، سرطان سے بچاؤ کی صلاحیت سے جانی جاتی ہیں۔

اس طرح تمام حیوانی پروٹین کو اکٹھا کرنے سے ممکن ہے کہ تحقیق نے مچھلی اور بعض دودھ کی مصنوعات کے حفاظتی اثرات کو ریکارڈ کیا ہو، بجائے اس کے کہ سرخ گوشت کی بے ضرری کو ثابت کیا ہو۔ یہ بات "سائنس الرٹ" کی رپورٹ میں کہی گئی۔

دودھ کی مصنوعات خود بھی سرطان سے متعلق تحقیق میں ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق یہ بڑی آنت اور ریکٹم کے سرطان کے خطرے کو کم کرتی ہیں، جبکہ کچھ کے مطابق یہ پروسٹیٹ کے سرطان کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ "حیوانی پروٹین" کی وسیع درجہ بندی دراصل کھانے کی مختلف اقسام کے اہم فرق کو چھپا دیتی ہے۔

اس تحقیق کو امریکا کی بیف انڈسٹری کی بڑی لابنگ تنظیم نیشنل کیٹل مین ایسوسی ایشن نے مالی مدد فراہم کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس میں کئی اور محدودیت بھی ہے۔ سب سے اہم یہ کہ محققین نے پروسیس شدہ اور بغیر پروسیس گوشت میں فرق نہیں کیا، حالانکہ کئی تحقیقات یہ واضح کر چکی ہیں کہ یہ فرق نہایت اہم ہے۔

پروسیس شدہ گوشت جیسے بیکن اور ساسیجز، سرطان کے خطرے کو ... ہمیشہ تازہ اور بغیر پروسیس گوشت کے مقابلے میں زیادہ بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحقیق نے سرطان کی مختلف اقسام کا الگ الگ مطالعہ نہیں کیا، جس سے یہ طے کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے کہ حفاظتی اثرات وسیع پیمانے پر لاگو ہوتے ہیں یا صرف مخصوص اقسام کے سرطان پر۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ تحقیق نے نباتاتی پروٹین جیسے دالیں، میوے اور سویا مصنوعات کو بھی شامل کیا، لیکن یہ نتیجہ نکلا کہ وہ سرطان سے اموات کے خلاف اتنا مضبوط حفاظتی اثر نہیں رکھتے۔ یہ بات ان سابقہ تحقیقات کے برعکس ہے جن کے مطابق نباتاتی پروٹینز سرطان کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ اس سے ویسے ہی پیچیدہ اور الجھی ہوئی تصویر مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

البتہ اس نتیجے سے غذاؤں پر مبنی ان ثابت شدہ فوائد کو کم نہیں سمجھا جا سکتا جو پودوں پر مشتمل خوراک سے حاصل ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں فائبر، اینٹی آکسیڈینٹس اور دیگر مرکبات شامل ہیں جو بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے سے جُڑے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں