ایرانی دارالحکومت تہران میں جمعے کے روز وزارتِ خارجہ کے باہر مظاہرین نے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے اور اس کی بعض شقوں کے خلاف احتجاج کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے واشنگٹن کے ساتھ زیرِ غور مفاہمت کی مخالفت میں نعرے لگائے اور مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ معاہدے کی بعض شقیں قومی اصولوں اور ملک کے اسٹریٹجک مفادات سے متصادم ہیں۔
مظاہرین نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کریں اور جوہری پروگرام یا ملکی خودمختاری سے متعلق کسی بھی قسم کی رعایت نہ دیں۔
احتجاج میں شریک بعض افراد نے مذاکرات کی نگرانی کرنے والے حکام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، انہیں اس معاملے کے انتظام کا ذمہ دار قرار دیا اور مذاکراتی ٹیم میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔
اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت سے متعلق ان کے حالیہ بیانات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کو تقویت دی ہے۔
فارس کا کہنا تھا کہ عراقچی کی جانب سے میڈیا کو معاہدے کے مندرجات پر قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی ہدایت اور بعض ''امریکی دعوؤں'' کی براہِ راست تردید نہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے اندر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
عباس عراقچی نے اس سے قبل ایرانی میڈیا سے کہا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دیے جانے تک اس کے مندرجات کے بارے میں قیاس آرائیوں سے اجتناب کیا جائے۔
متظاهرون أمام وزارة الخارجية الإيرانية يطالبون عراقجي بالاستقالة
— Ontime (@ontimebrief) June 13, 2026
تجمع متظاهرون أمام مبنى وزارة الخارجية الإيرانية في طهران، مطالبين باستقالة وزير الخارجية عباس عراقجي، رفضاً للاتفاق المرتقب مع الولايات المتحدة.
وردد المتظاهرون هتافات ضد عراقجي، متهمين فريق التفاوض بتقديم… pic.twitter.com/mzCRtw4wtt
انہوں نے واضح کیا کہ مناسب وقت پر معاہدے کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی اور اس معاملے میں تہران ایک ذمہ دار اور شفاف طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران نے ابھی تک امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط نہیں کیے اور اس کے متن میں تبدیلیوں کا امکان موجود ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ اگر عارضی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو جاتا ہے تو جوہری پروگرام کا معاملہ بعد کے مرحلے میں زیرِ بحث آئے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عارضی معاہدے کے تحت مختلف محاذوں پر جاری جنگوں کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا، جن میں لبنان بھی شامل ہے، جبکہ محاصرے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شقیں بھی شامل ہوں گی۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے عباس عراقچی نے زور دیا کہ اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم سے نمٹنے کا واحد قابلِ قبول طریقہ یہ ہے کہ اسے ایران کے اندر ہی کم افزودگی والی سطح پر لایا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ اتوار کو دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا، تاہم ایران نے اس رفتار سے معاہدے پر دستخط کی تردید کی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریقین امن معاہدے کے لیے ایک فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں اور اسلام آباد اتوار کو اس پر الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر کل دستخط کیے جائیں گے اور دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔
تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ معاہدے پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق تہران کے حکام اتوار کے روز معاہدے پر دستخط کی اجازت نہیں دیں گے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ دن ٹرمپ کی سالگرہ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور ایران کے مطابق وہ نہیں چاہتا کہ اس موقع کو امریکی صدر کے لیے کسی تشہیری یا علامتی موقع میں بدلا جائے۔