فرانسیسی اداکارہ ادیل اینیل غزہ کے لیے روانہ عالمی بیڑے میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی اداکارہ ادیل اینیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ تونس سے غزہ کے لیے روانہ ہونے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا" میں شامل ہوں گی تاکہ محصور فلسطینی عوام کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ انسانیت اب بھی زندہ ہے۔

ادیل اینیل نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو میں کہا کہ اس تاریخی لمحے پر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ انسانی مشن کے طور پر عالمی بیڑے برائے استقامت کی ایک کشتی پر سوار ہوں۔

بیڑا اتوار کو تونس سے روانہ ہوگا۔ یہ اصل میں گذشتہ جمعرات روانہ ہونا تھا لیکن خراب موسم اور بارسلونا سے بیڑے کی روانگی میں تاخیر کے باعث یہ شیڈول مؤخر کر دیا گیا۔ تونس سے شامل ہونے والے کارکن سمندر میں بیڑے کے دیگر جہازوں کے ساتھ جا ملیں گے۔

ادیل اینیل نے کہا کہ ہمارا مقصد غزہ کے عوام تک خوراک اور ادویات پہنچانا ہے جو قابض اسرائیلی حکومت کی دانستہ مسلط کردہ قحط سے دوچار ہیں۔

وہ اتوار کی شام تونس پہنچی تھیں اور دو روزہ تربیتی پروگرام میں شریک ہوئیں تاکہ اس مہم کی تیاری کر سکیں۔

ادیل اینیل نے فلم "پورٹریٹ آف اے لیڈی آن فائر" میں اداکاری کے دوران شہرت حاصل کی۔ انہوں نے سنہ2020ء میں سیزر ایوارڈ کی تقریب کے دوران احتجاجاً ہال چھوڑ دیا تھا کیونکہ بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ رومن پولانسکی کو دیا گیا تھا جن پر متعدد خواتین جنسی زیادتی کے الزامات عائد کر چکی ہیں۔ اس کے بعد وہ فلمی دنیا سے دور ہو گئیں۔

ادیل اینیل
ادیل اینیل

اداکارہ نے کہا کہ ہم سب پرامن انداز میں ایک انسانی راہداری کھولنے اور قابض اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے کو توڑنے کی خواہش میں متحد ہیں۔

عالمی بیڑے میں درجنوں ممالک کے کارکن شریک ہیں جن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اور عوامی شخصیات شامل ہیں۔ اتوار کو ایک سو سے زائد افراد تیونس سے بیڑے کے ساتھ روانہ ہوں گے۔

امید کی جا رہی ہے کہ عالمی بیڑے کی کشتیوں کے قافلے ستمبر کے وسط میں غزہ پہنچیں گے اور امدادی سامان پہنچائیں گے۔ اس سے قبل قابض اسرائیل نے جون اور جولائی میں دو کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا۔

غزہ اس وقت ایک تباہ کن جنگ کا سامنا کر رہا ہے جو سات اکتوبر سنہ 2023ء کو حماس کے غیر معمولی حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اقوام متحدہ نے اگست میں غزہ میں قحط کی صورتحال کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ پانچ لاکھ افراد انتہائی تباہ کن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size