ہماری بندرگاہوں سے امریکی بحری محاصرہ ہٹا لیا گیا: ایران
امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد ایرانی جہازوں خلیج عمان میں ممنوعہ بحری علاقے سے گزرنے لگے
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دو ماہ سے جاری اپنا بحری محاصرہ ہٹا لیا ہے۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط سے قبل ہوئی ہے۔
حکومتی ویب سائٹ کے مطابق مجید تخت روانچی نے کہا کہ محاصرے کا خاتمہ وہ معاملہ ہے جس پر ہم نے شروع ہی سے زور دیا تھا۔ یہ عمل اب شروع ہو چکا ہے اور سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو متوقع معاہدے کی باضابطہ دستخط سے قبل ہی محاصرہ ہٹا لیا گیا ہے۔
ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی معاہدے کے بعد کئی ایرانی جہازوں نے خلیج عمان میں امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ممنوعہ بحری علاقے کو عبور کیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کم از کم تین آئل ٹینکرز اور دو کارگو جہازوں نے پیر کی شام بغیر کسی واقعے کے اس علاقے کو عبور کیا۔
یہ پیش رفت کئی ہفتوں کی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے جس کے دوران واشنگٹن اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچے ہیں جس پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔
مذاکرات میں اختلاف کے اہم ترین نکات میں سے ایک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا اور ایران نے دستخط کے بعد اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔
ایک الگ تناظر میں جہازوں کو ٹریک کرنے والی سروس ٹینکر ٹریکرز نے پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لے جانے والا ایک بڑا ٹینکر امریکی ممنوعہ بحری لائن کو عبور کر گیا ہے، جبکہ دیگر جہاز اس علاقے کے قریب پہنچ رہے تھے یا اب ایرانی بندرگاہوں پر موجود نہیں تھے۔