بڑھاپا لبلبے (Pancreas) سے شروع ہوتا ہے، تین عام عادات سے دور رہنے کی کوشش کریں
جب لبلبہ مسلسل کام کرتا ہے، تو میٹابولزم اور جسم کے دیگر اعضا کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے
آج کل بڑھاپے اور اس کی علامات کو روکنے یا ان کے ظاہر ہونے کو مؤخر کرنے کے طریقوں کے بارے میں گفتگو عام ہے اور سائنسدان اس وقت ایسے مطالعے اور تحقیق کر رہے ہیں تاکہ بڑھاپے کو کنٹرول کرنے کے لیے صحت مند طریقہ کار دریافت کیا جا سکے۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ بوڑھاپا دل یا دماغ سے شروع ہوتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ لبلبہ (Pancreas)، جو میٹابولزم (Metabolism) کے افعال کو براہِ راست کنٹرول کرتا ہے، سب سے پہلے اس سے متاثر ہوتا ہے۔
nb دوسرے لفظوں میں یہ وہ پہلا عضو ہے جو بڑھاپے کی علامات سے دوچار ہوتا ہے۔healt hmail ru کے مطابق ڈاکٹر مارک گادزیان جو کہ ماہر امراض اور جراحی برائے پیشاب کی نالی ہیں، کہتے ہیں کہ لبلبہ دو اہم افعال انجام دیتا ہے:ہضم کے لیے انزائمز پیدا کرنا جو چکنائی، پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کو ہضم کرتے ہیں۔خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنا، انسولین اور گلوکاگون ہارمونات کے ذریعے۔جب لبلبہ مسلسل کام کرتا ہے یا اس پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو اس سے میٹابولزم اور جسم کے دیگر اعضا جیسے کہ جگر، آنتیں، خون کی نالیوں اور اعصابی نظام متاثر ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ لبلبے کو نقصان اکثر صبح کی کچھ عام عادات کی وجہ سے ہوتا ہے، جنہیں لوگ بے ضرر سمجھتے ہیں۔
ناشتے میں زیادہ شوگر والی خوراک لینا
بہت سے لوگ دن کا آغاز ایسے غذائی اجزاء سے کرتے ہیں جن میں شوگر شامل ہوتی ہے، جیسے میٹھا دہی، دودھ کے ساتھ اناج، چاکلیٹ کیک، پیسٹری، سفید روٹی یا جوس۔ بظاہر یہ بے ضرر لگ سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ لبلبے کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔میٹھی خوراک خون میں گلوکوز کی سطح کو اچانک بڑھا دیتی ہے اور جسم فوری طور پر انسولین پیدا کرنے پر مجبور ہوتا ہے، جس سے لبلبہ روزانہ تھک جاتا ہے۔
ڈاکٹر گادزیان کے مطابق: صبح ناشتے میں ایک سفید روٹی کا ٹکڑا کھانا گلوکوز کی سطح میں شدید اضافہ کرتا ہے، جیسے کسی نے اپنے آپ کو ورید کے ذریعے گلوکوز دے دیا ہو۔ وقت کے ساتھ، لبلبے کی خلیات کمزور ہو جاتی ہیں اور انسولین کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، جس سے قبل از وقت ذیابیطس یا ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر کا مشورہ ہے کہ میٹھے ناشتے کی جگہ متوازن یا پروٹین سے بھرپور ناشتہ لیں، جیسے:آملیٹپنیرپوری اناج کی روٹیبغیر میٹھا دہیسبزیاںیہ لبلبے کی حفاظت اور شوگر کے لیول کو مستحکم رکھنے میں مددگار ہے۔
مسلسل ہلکی خوراک لینا
کچھ غذائی رہنما خطوط دن میں کئی چھوٹی چھوٹی خوراکیں لینے کی تجویز دیتے ہیں، لیکن یہ لبلبے کے لیے صحت مند نہیں، کیونکہ ہر کھانے سے انسولین کی پیداوار بڑھتی ہے۔ جب کھانوں کے درمیان وقفے کم ہوں، تو لبلبہ آرام نہیں کر پاتا۔
نتیجہ: مزید تھکن، نیند کا زیادہ آنا اور وزن میں اضافہ۔
ڈاکٹر گادزیان کے مطابق صحت مند ہلکی خوراکیں جیسے گری دار میوے، کیلا یا پروٹین بارز بھی نقصان دہ ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ لبلبے کو بغیر توقف کام کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
ان کا مشورہ ہے کہ کھانوں کے درمیان وقفہ کم از کم 3 سے 4 گھنٹے ہو اور اس دوران پانی، ہربل چائے یا بغیر شوگر کی سیاہ کافی لی جا سکتی ہے تاکہ لبلبہ آرام کر سکے اور شوگر کی سطح کو نارمل کر سکے۔
خالی پیٹ کافی پینا
کافی بہت سے لوگوں کے لیے صبح کی روٹین کا حصہ ہے، لیکن خالی پیٹ کافی پینا معدے اور ہاضمہ پر دباؤ ڈالتا ہے۔کیفین معدے کے جوس کی پیداوار بڑھاتی ہے اور تیزابیت میں اضافہ کرتی ہے۔یہ کورٹی سول (ہارمونِ تناؤ) کی سطح بڑھاتا ہے، جس سے لبلبہ زیادہ دباؤ میں کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور انزائمز اور ہارمونز پیدا کرتا ہے، چاہے خوراک موجود نہ بھی ہو۔