ایران جنگ

امریکہ کی ایران پر بمباری جاری، تہران کا کویت پر دوبارہ حملہ

کویتی فضائی دفاع کا ایرانی میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے ایران پر فضائی حملوں کی آٹھویں رات مکمل کر لی ہے۔ ان حملوں میں خاص طور پر پاسداران انقلاب کی ان قوتوں کو نشانہ بنایا گیا جو اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں ملوث تھیں۔ اسی دوران ایران نے کویت میں بھی اہداف پر ضربیں لگانا جاری رکھا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جن میں پاسداران انقلاب کی وہ فورسز شامل ہیں جنہوں نے 17 جولائی کو اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کیے تھے۔

سینٹ کام نے اعلان کیاکہ اردن میں ایرانی گولہ باری کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ سات جولائی کو لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد ہلاک ہونے والے پہلے امریکی فوجی ہیں۔ اس طرح 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسیوں مہر اور تسنیم کے مطابق امریکی طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع شہر سیرک پر حملے کیے جبکہ سرکاری ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ ایک امریکی حملے میں جنوبی صوبے ہرمزگان کا شہر حاجی آباد نشانہ بنایا گیا۔



کویت پر بمباری

دوسری جانب ایرانی مسلح افواج نے بتایا کہ اس نے امریکی بمباری کے جواب میں کویت میں موجود دو امریکی اڈوں کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ان حملوں میں کویت کے الادیراع اڈے پر موجود امریکی فوج کے اسلحہ ڈپو اور علی السالم ایئر بیس پر موجود پیٹریاٹ ریڈار سسٹم اور ایئر سرویلنس ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔

کویتی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت کویت پر جمعہ اور ہفتے کے روز ہونے والے حملوں کے بعد ہوئی ہے جن میں دو بجلی گھر اور تیل کے شعبے کا ایک مقام متاثر ہوا تھا۔ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے ان حملوں کو "جنگی جرائم" قرار دیا ہے۔

تہران امریکی بمباری کے جواب میں خلیجی ممالک اور اردن میں میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔ اس طرح یہ کشیدگی اپریل میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

عبرت ناک سبق

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے ہفتے کے روز امریکہ کو "ناقابل فراموش اسباق" سکھانے کی دھمکی دی تھی۔ یہ وہ دن تھا جب تہران نے اپنی سرزمین پر مسلسل بمباری کے جواب میں کویت، اردن اور بحرین میں متعدد امریکی عسکری مقامات کو نشانہ بنایا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے سوشل میڈیا اور سرکاری ٹیلی ویژن پر شائع کردہ بیان میں کہا کہ "شیطان بزرگ" کی جانب سے 17 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود بیزشکیان کے درمیان طےشدہ مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے وعدہ شکنی ثابت کرتی ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی قدر یا ساکھ نہیں ہے۔ اس یادداشت کا مقصد ایرانی سرزمین پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا اور 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنا تھا۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق 27 جون سے جاری امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

بمباری کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں سمندری واقعات بھی جاری ہیں۔ 17 جون کو ہونے والے معاہدے کے بعد آبنائے کو دوبارہ کھولنا سب سے بڑی کامیابی تھی تاہم اب وہاں جہاز رانی کا نظام تقریباً معطل ہو چکا ہے۔ اسی کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ ناکہ بندی عائد کر دی ہے جسے معاہدے کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں