مشہور طبی ماہر کے مطابق شوگر ذیابیطس کی علامت ہے، بنیادی سبب نہیں
بیان میں کہا گیا کہ اصل مسئلہ انسولین کی مزاحمت میں ہے، یہ ہارمون گلوکوز کو خلیات تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے
معدے کے امراض کے ماہر ڈاکٹر پال جو انسٹاگرام پر اپنی سادہ اور سائنسی بنیادوں پر مبنی صحت کے مشوروں کے لیے معروف ہیں،انھوںنے حال ہی میں بتایا کہ شکر خود ذیابیطس کی اصل وجہ نہیں، بلکہ یہ محض ایک علامت بھی ہو سکتی ہے۔
انسولین کی مزاحمت
اپنی پوسٹ میں ڈاکٹر پال نے انسولین کی مزاحمت کے بارے میں حقیقت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جسم میں ایک پوشیدہ خرابی ہے ،جو خاموشی سے بیماری کو بڑھاتی ہے۔ Economic Times کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ بہت سے لوگ غلطی سے میٹھے کو ذیابیطس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، حالانکہ اصل مسئلہ انسولین ریزسٹنس ہوتا ہے،یعنی وہ حالت جس میں جسم انسولین پر مناسب ردِعمل دینا چھوڑ دیتا ہے، جبکہ انسولین وہ ہارمون ہے جو گلوکوز کو خلیوں تک پہنچانے کا کام کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب ایسا ہوتا ہے تو خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جسم میں چربی جمع ہونے لگتی ہے (خصوصاً پیٹ کے حصے میں)، توانائی کی سطح کم ہونے لگتی ہے اور جسم میں سوزش میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر پال کے مطابق یہ مسئلہ صرف چینی تک محدود نہیں بلکہ پورے جسم کے نظام میں پیدا ہونے والی گڑبڑ کا نتیجہ ہے۔
غیر صحت مند طرزِ زندگی
ڈاکٹر پال نے مزید بتایا کہ انسولین کی مزاحمت اکثر غیر صحت مند طرزِ زندگی کا نتیجہ ہوتی ہے، جس میں ناکافی نیند، جسمانی سرگرمی کی کمی، دائمی ذہنی دباؤ اور پروسیسڈ (مصنوعی طور پر تیار شدہ) خوراک سے بھرپور غذا شامل ہے۔
انہوں نے اس حالت کو طرزِ زندگی سے جڑی ہوئی بیماری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر قابلِ علاج ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر بنیادی چیزوں پر توجہ دی جائے،جیسے صحت بخش غذا، بہتر نیند، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور ذہنی دباؤ پر قابوتو جسم قدرتی طور پر بحالی کے عمل کی طرف بڑھنے لگتا ہے اور اپنا توازن دوبارہ حاصل کر لیتا ہے۔
بلڈ شوگر بڑھنے کی انتباہی علامات
ڈاکٹر بال نے کچھ ابتدائی علامات کا ذکر کیا، جو اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہیں کہ خون میں شوگر کی سطح قابو میں نہیں ہے، چاہے ٹیسٹ کی رپورٹیں بظاہر نارمل ہی کیوں نہ ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ مسلسل تھکن اس کے باوجودکہ نیند پوری ہو ،کھانے کے فوراً بعد میٹھا کھانے کی شدید خواہش، دماغی دھندلاہٹ یا توجہ کی کمی جیسی علامات دراصل چھپی ہوئی وارننگ ہوتی ہیں۔
اسی طرح رات کے وقت بار بار پیشاب آنا، شدید پیاس لگنا یا بے آرام نیند بھی اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ جسم اضافی گلوکوز خارج کرنے کی کوشش میں بہت زیادہ محنت کر رہا ہے۔
مزید یہ کہ انہوں نے خبردار کیا کہ آہستہ آہستہ بھرنے والے زخم، یا جلد کے بار بار پیدا ہونے والے مسائل جیسے گردن یا بغلوں میں سیاہ دھبوں کا بن جانا بھی اہم علامات ہیں ،جنہیں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر بال کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی ہیموگلوبن A1c (HbA1c) کے بڑھنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ جسم عام طور پر خون کے ٹیسٹ خراب ہونے سے بہت پہلے ہی وارننگ دینا شروع کر دیتا ہے اور ان علامات کو جلد پہچان لینا بڑے فرق کا باعث بن سکتا ہے۔
خون میں شوگر بڑھنے کی سب سے بڑی وجوہات
ڈاکٹر بال کے مطابق خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے کی وجہ صرف میٹھا کھانا نہیں ہے، بلکہ روزمرہ کی بہت سی عام غذائیں خاموشی سے شوگر لیول کو اوپر لے جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سفید ڈبل روٹی، زیادہ پراسیس کیے گئے سفید میدے سے بنی چیزیں اور سفید چاول ان میں فائبر کی کمی کی وجہ سے بہت تیزی سے خون میں گلوکوز کی سطح بڑھا دیتے ہیں۔
اسی طرح میٹھی ناشتے کی سیریلز خود کو صحت مند ظاہر کرتی ہیں، حالانکہ وہ اصل میں پروسیس شدہ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتی ہیں۔ جبکہ پیسٹریز میں چینی، چکنائی اور ریفائنڈ میدہ ایک ساتھ شامل ہونے کی وجہ سے وہ خاص طور پر نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
ان تمام باتوں کے بعد ڈاکٹر بال نے واضح کیا کہ خون میں شوگر کی سطح بڑھانے کا سب سے بڑا سبب سافٹ ڈرنکس اور میٹھے مشروبات ہیں، جو بنیادی طور پر فوری اثر رکھنے والی مائع شکر کی طرح کام کرتے ہیں۔