پرسکون نیند کا آغاز دماغ سے نہیں آنتوں سے ہوتا ہے

آنتوں کا مائیکروبیوم نیند کے معیار، مزاج اور عمومی صحت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اچھی نیند کا آغاز دماغ سے ہوتا ہے لیکن حقیقت میں آرام دہ نیند کا آغاز جسم کے نچلے حصے یعنی آنتوں سے ہوتا ہے۔ یہ انکشاف ویب سائٹ ’’ سائنس الرٹ ‘‘ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ نظامِ ہضم میں رہنے والے کھربوں خوردبینی جانداروں (مائیکروبس) کی بستی، جسے "مائیکروبیوم" کہا جاتا ہے، نیند کے معیار، انسانی مزاج اور مجموعی صحت کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ جس وقت آنتوں کا یہ مائیکروبیوم متوازن اور صحت مند ہوتا ہے تو نیند بہتر آتی ہے لیکن اس میں بگاڑ کی صورت میں بے خوابی، نیند میں خلل اور نیند کے چکر میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔

ویگس نرو

آنتیں اور دماغ ایک محور کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ اس مواصلاتی نیٹ ورک میں اعصاب، ہارمونز اور مدافعتی سگنلز شامل ہیں۔ اس نظام کا سب سے مشہور حصہ ’’ ویگس نرو ‘‘ ہے جو ایک دو طرفہ کمیونیکیشن لائن کے طور پر کام کرتی ہے اور آنتوں اور دماغ کے درمیان معلومات منتقل کرتی ہے۔ محققین ابھی اس پر مزید کام کر رہے ہیں لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ اعصاب کی یہ فعال سرگرمی اعصابی نظام کو پرسکون رکھنے، دل کی دھڑکن کو منظم کرنے اور جسم کو آرام کی حالت میں منتقل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس گہرے تعلق کی وجہ سے آنتوں میں آنے والی تبدیلیاں براہِ راست اس بات پر اثر انداز ہوتی ہیں کہ دماغ تناؤ، مزاج اور نیند کو کیسے کنٹرول کرتا ہے۔

آنتوں کا سگنل بھیجنا

یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر میں میڈیکل مائیکرو بائیولوجی کی سینئر لیکچرر ڈاکٹر منال محمد بتاتی ہیں کہ آنتوں کے مائیکروبس کا کام صرف کھانا ہضم کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ایسے نیورو ٹرانسمیٹر اور میٹابولائٹس بھی پیدا کرتے ہیں جو نیند سے وابستہ ہارمونز پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ میٹابولائٹس وہ چھوٹے کیمیائی مرکبات ہیں جو اس وقت بنتے ہیں جب مائیکروبس خوراک کو توڑتے ہیں یا ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔

مائیکروبیئل عدم توازن

یہ مرکبات جسم میں سوزش، ہارمونز کی پیداوار اور جسمانی گھڑی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جب آنتیں متوازن ہوتی ہیں تو یہ مادے پرسکون سگنل بھیجتے ہیں لیکن جب مائیکروبیوم کا توازن بگڑ جاتا ہے تو یہ مواصلاتی نظام ناقابلِ بھروسہ ہو جاتا ہے۔ مائیکروبیوم کے توازن کے اس بگڑنے کو ڈِس بائیوسِیس کہتے ہیں۔

سیروٹونن اور میلاٹونن

آنتیں نیند سے متعلق کئی اہم کیمیائی مادے پیدا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ’’ سیروٹونن ‘‘ مزاج کو منظم کرتا ہے اور سونے جاگنے کے چکر کو ترتیب دینے میں مدد دیتا ہے۔ جسم کا زیادہ تر سیروٹونن آنتوں میں بنتا ہے اور مفید بیکٹیریا اس کی پیداوار مستحکم رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ اسی طرح ’’ میلاٹونن ‘‘ ، جو رات کو نیند کا احساس دلاتا ہے، پینیل گلینڈ کے ساتھ ساتھ نظامِ ہضم میں بھی بنتا ہے۔ آنتیں سیروٹونن کو میلاٹونن میں تبدیل کرنے میں مدد دیتی ہیں لہذا آنتوں کی صحت اس عمل پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

گاما امینو بیوٹیرک ایسڈ

آنتیں گاما امینو بیوٹیرک ایسڈ (GABA ) کی پیداوار میں بھی مدد دیتی ہیں جو ایک پرسکون کرنے والا نیورو ٹرانسمیٹر ہے۔ یہ اعصابی نظام کو سکون پہنچاتا ہے اور جسم کو یہ سگنل دیتا ہے کہ وہ آرام کرنے کے لیے محفوظ حالت میں ہے۔ جب نقصان دہ بیکٹیریا بڑھ جاتے ہیں تو جسم کی 24 گھنٹے کی اندرونی گھڑی غیر مستحکم ہو جاتی ہے جس سے بے خوابی اور نیند سے پہلے بے چینی پیدا ہوتی ہے۔

سوزش اور مدافعت

صحت مند نظامِ ہضم مدافعتی ردعمل کو متوازن رکھتا ہے۔ اگر غذا کی خرابی سے آنتوں کی تہہ متاثر ہو جائے تو سوزش پیدا کرنے والے ذرات خون میں شامل ہو کر دائمی سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ یہ سوزش دماغ کی نیند کو منظم کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے کیونکہ سوزش پیدا کرنے والے کیمیکل دماغ کے انہی حصوں پر اثر کرتے ہیں جو بیداری اور آرام کو کنٹرول کرتے ہیں۔

کورٹیسول اور ہنگامی سگنلز

سوزش کی وجہ سے سٹریس ہارمون ’’ کورٹیسول ‘‘ کی سطح بڑھ جاتی ہے جس سے جسم آرام کے بجائے کام کے لیے الرٹ ہو جاتا ہے۔ تناؤ آنتوں کے مفید بیکٹیریا کو کم کر دیتا ہے جس سے پریشان آنتیں دماغ کو ہنگامی مدد کے سگنل بھیجتی ہیں جو بے چینی بڑھا کر نیند کو مزید خراب کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جسے صرف آنتوں کی صحت بہتر بنا کر ہی توڑنا ممکن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں