سوئٹزرلینڈ ... نائٹ کلب کے دل دہلا دینے والے منظر نے عوامی غصہ کیوں بھڑکا دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوئٹزرلینڈ کے حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نئے سال کی رات سوئس الپس کے ایک مشہور تفریحی مقام (ریزورٹ) کے شراب خانے میں لگنے والی مہلک آگ کی وجہ شیمپین کی بوتلوں کے اوپر لگی بھڑکتی ہوئی مشعلیں تھیں، جو چھت کے بہت قریب پہنچ گئی تھیں۔ اس دوران ایک نئی وڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں آگ لگنے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے والی اس وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ الکحل کی بوتلوں کے اوپر لگی چنگاریاں بلند ہو کر "لو کونسٹیلاسیون" نامی بار کی چھت تک پہنچ رہی ہیں۔ اس دوران وہاں موجود بہت سے نوجوان آگ بجھانے یا وہاں سے نکلنے کے بجائے اس منظر کی فلم بندی میں مصروف تھے۔

اس منظر نے سوشل میڈیا پر سیکڑوں افراد کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے جنہوں نے دانش مندی سے کام لینے کے بجائے نوجوانوں کی جانب سے آگ کی وڈیو بنانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ "سوشل میڈیا کے جنون نے لوگوں کی عقلیں چھین لی ہیں"۔ بہت سے لوگوں نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے حادثات میں جان بچانے اور دوسروں کی حفاظت کے لیے درست رد عمل دینے کی تربیت دیں۔

عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے بار کے ملازمین کو شیمپین کی بوتلوں پر "فاؤنٹین کینڈلز" (آتش بازی والی شمعیں) اٹھائے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ تہ خانے کی چھت میں آواز روکنے کے لیے استعمال ہونے والے فوم کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جہاں لوگ رقص کر رہے تھے۔

والے کے علاقے کی پراسیکیوٹر بیٹرس بیلوڈ، جہاں کران مونٹانا کا یہ پر تعیش سکی ریزورٹ واقع ہے، نے بتایا کہ دستیاب شواہد اشارہ کرتے ہیں کہ آگ چھت کے قریب ان شمعوں کی موجودگی کی وجہ سے لگی۔ دوسری جانب بار کے مالکان میں سے ایک جیک موریٹی نے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گذشتہ 10 سالوں میں بار کا تین بار معائنہ کیا گیا تھا اور وہاں تمام امور قواعد و ضوابط کے مطابق تھے۔

یاد رہے کہ اس آگ کے نتیجے میں تقریباً 40 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ ملک کی تاریخ کے بد ترین حادثات میں سے ایک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں