دوسری زبان پر مہارت حاصل کرنے کے لیے کون سا وقت زیادہ مؤثر ہے: بچپن یا بعد کی عمر؟
دنیا تیزی سے ایک عالمی گاؤں میں بدل رہی ہے، جہاں ایک سے زیادہ زبانوں پر عبور محض مہارت نہیں بلکہ ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ دوسری زبان سیکھنے کا بہترین وقت کون سا ہے؟ کیا بچپن کی نرم اور لچک دار ذہنیاں اس سفر کے لیے زیادہ موزوں ہیں یا پھر بڑی عمر میں حاصل ہونے والی فہم، تجربہ اور شعور زبان سیکھنے کو زیادہ مؤثر بنا دیتے ہیں؟ خصوصاً تعلیم و تربیت کے شعبے سے وابستہ افراد اس بحث میں پیش پیش ہیں، کیونکہ اس سوال کا جواب نہ صرف تعلیمی پالیسیوں بلکہ آنے والی نسلوں کے لسانی مستقبل کا بھی تعین کرتا ہے۔
بعض لوگوں کو خدشہ ہوتا ہے کہ بچپن میں دوسری زبان سیکھنے سے مادری زبان متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچے بالغوں کے مقابلے میں زبانیں زیادہ آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ ''سائیکولوجی ٹوڈے'' پر شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق جس کا مطالعہ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی کیا، یہ دعوے کہ بچپن میں سیکھنا ہی دوسری زبان پر عبور حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے اور یہ کہ بالغوں کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے، دراصل ''مانوس اور سادہ مگر گمراہ کن دعوے'' ہیں۔
لسانیات کی ماہر محقق اور مصنفہ ڈاکٹر کیرن اسٹولزناو اس سوال کا جواب تلاش کرتی ہیں کہ دوسری زبان سیکھنے کا مثالی وقت کون سا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ بچپن کے دوران دماغ لسانی معلومات کو قبول کرنے کے لیے نہایت موزوں ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر بچے آوازوں، ردھم اور قواعد کو بغیر کسی خاص شعوری کوشش کے اور اکثر بغیر براہِ راست رہنمائی کے، جذب کر لیتے ہیں۔
وہ روزمرہ تعامل ماحول میں ڈوبنے اور مسلسل سامنا ہونے کے ذریعے زبان سیکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے کم عمری میں دوسری زبان سے متعارف ہونے والے بچے عموماً اہلِ زبان جیسا لہجہ اپنا لیتے ہیں۔ تلفظ خاص طور پر وقت سے متاثر ہوتا ہے، کیونکہ جب دماغ مادری زبان کے صوتی نظام کا عادی ہو جاتا ہے، جو عموماً بچپن کے آخری حصے میں ہوتا ہے، تو ان نمونوں سے نکلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے بالغ افراد اکثر عمر بھر اپنی مادری زبان کی صوتی جھلک ساتھ لیے رہتے ہیں۔
اسٹولزناو مزید کہتی ہیں کہ بچے عموماً بات چیت میں زیادہ نڈر ہوتے ہیں۔ وہ بلا جھجھک بولتے ہیں، اندازے لگاتے ہیں اور غلطیاں کرنے سے نہیں کتراتے۔ اس کے برعکس بالغ افراد زیادہ محتاط ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ان کا تلفظ کب غلط لگ رہا ہے۔
وہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں کہ اگر مقصد کسی مادری زبان بولنے والے جیسی روانی حاصل کرنا ہو تو کم عمری میں زبان سے واقفیت ایک واضح برتری فراہم کرتی ہے۔تاہم وہ یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ مادری زبان بولنے والے جیسی روانی ہی کامیابی کا واحد معیار نہیں۔ بالغ افراد کے پاس مضبوط ذہنی صلاحیتیں ہوتی ہیں، جو زبان سیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ان کے پاس بہتر استدلالی صلاحیتیں، مضبوط یادداشت کی حکمتِ عملیاں اور ایک مکمل طور پر ترقی یافتہ پہلی زبان ہوتی ہے جس کی بنیاد پر وہ نئی زبان سیکھ سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے وہ اکثر ذخیرۂ الفاظ مطالعہ اور قواعد جیسے شعبوں میں تیزی سے ترقی کرتے ہیں۔امریکی محققہ کے مطابق بالغ افراد مجازی زبان، محاورات، استعاروں اور ثقافتی اشاروں کو زیادہ آسانی سے سمجھ لیتے ہیں، کیونکہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ سماجی اقدار، مزاح اور ثقافتی توقعات بھی اس کا حصہ ہیں، جنہیں بالغ افراد بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
اسٹولزناو کہتی ہیں کہ بالغوں کو کم تر سمجھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ لہجے کو ذہانت یا صلاحیت کا پیمانہ بنا لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ لہجہ دراصل صلاحیت سے زیادہ وقت سے تعلق رکھتا ہے۔ کسی مضبوط مادری لہجے کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ زبان کب سیکھی گئی، نہ کہ یہ کہ اسے کتنی مہارت سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ زبان سیکھنے میں سب سے اہم عنصر عمر نہیں بلکہ حوصلہ اور جذبہ (دافع) ہے۔ اگر کسی شخص میں زبان سیکھنے کی مضبوط خواہش ہو تو وہ بچہ ہو یا بالغ، بہتر انداز میں زبان سیکھ سکتا ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر زبانیں سیکھتے ہیں، جیسے ملازمت، شناخت، محبت یا بقا اور بعض اوقات یہ سب وجوہات اکٹھی بھی ہوتی ہیں۔
تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ افراد جو زبان اور اس کی ثقافت سے جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں، عموماً ان لوگوں سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں ،جو صرف عملی ضرورت کے تحت زبان سیکھتے ہیں۔ کسی ثقافت سے جڑنے کی خواہش، کتابیں، فلمیں اور موسیقی اصل زبان میں سمجھنے کا شوق، یا خاندانی ورثے سے رابطہ یہ سب عوامل زبان سیکھنے کے طویل اور بعض اوقات مشکل سفر کو جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
آخر میں اسٹولزناو کہتی ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ زیادہ حوصلہ رکھنے والے بالغ افراد جو غلطیوں کو قبول کرتے ہیں، غیر یقینی صورتحال سے نہیں گھبراتے اور بولتے رہتے ہیں، زبان میں اعلیٰ درجے کی روانی حاصل کر سکتے ہیں، چاہے ان کا مادری لہجہ مکمل طور پر ختم نہ بھی ہو۔
محققین یہ بھی بتاتے ہیں کہ لسانی صلاحیت یا فطری استعداد افراد میں مختلف ہوتی ہے، مگر اسے مشق زبان سے مسلسل واسطے اور مؤثر سیکھنے کی حکمتِ عملیوں کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔