عطریات کا زیادہ استعمال مسئلہ بن سکتا ہے … اس کا آسان حل جانیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم گھر سے نکلنے سے پہلے خود کو تروتازہ اور پُرکشش بنانے کے لیے عطر لگاتے ہیں، مگر چند لمحوں بعد احساس ہوتا ہے کہ خوشبو حد سے زیادہ تیز ہو گئی ہے اور ہمارے اردگرد پھیل کر دوسروں کے لیے ناگوار بھی بن سکتی ہے۔

خوشبو جہاں شخصیت کو نکھارتی ہے وہیں اس کا بے جا استعمال الٹا تاثر بھی پیدا کر سکتا ہے۔ تو اگر عطر ضرورت سے زیادہ لگ جائے تو گھبرانے کے بجائے سمجھداری سے اسے کیسے سنبھالا جائے اور اس عام مگر اہم خوبصورتی کی غلطی کو درست کرنے کے لیے کون سے آسان اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

ہم میں سے ہر ایک کی پسند الگ ہوتی ہے، چاہے بات رنگوں کی ہو، کھانے کی، کھیلوں کی، مشروبات کی یا پسندیدہ خوشبوؤں کی۔ اسی لیے عطر کے انتخاب میں بھی لوگوں کے ذوق میں بڑا فرق ہوتا ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو عطر ہمیں پسند ہو، وہ زیادہ مقدار میں لگانے کی صورت میں اردگرد کے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بن جائے۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

ہمیں کیسے معلوم ہو کہ ہم نے عطر زیادہ لگا لیا ہے؟عطر زیادہ لگانے کی کوئی واضح اور قطعی حد مقرر کرنا مشکل ہے، کیونکہ یہ عطر کی ترکیب اور اس کے ارتکاز پر منحصر ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ 15 یا 20 اسپرے بہت سے لوگوں کے نزدیک زیادہ سمجھے جائیں، لیکن اس بارے میں کوئی سخت اصول موجود نہیں۔

ہر شخص عطر اپنے طریقے سے استعمال کرتا ہے، اسی لیے اس کی خوشبو ایک شخص سے دوسرے شخص پر مختلف محسوس ہوتی ہے۔البتہ اگر آپ کے اردگرد کے لوگ بار بار آپ کے عطر کا ذکر کریں، چاہے مثبت انداز میں ہی کیوں نہ ہو، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خوشبو بہت تیز ہے اور دوسروں کے عطروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کچھ خوشبوئیں جیسے لکڑی کی مہک (عود اور پچولی)، سفید پھولوں کی خوشبو اور میٹھی خوشبوئیں فطری طور پر زیادہ بھاری اور نمایاں ہوتی ہیں، جبکہ مشک جیسی خوشبوئیں نسبتاً ہلکی ہوتی ہیں۔

اعصابی نظام چند منٹ بعد عطر کی خوشبو کا عادی ہو جاتا ہے، لیکن اگر آپ کو دن بھر اپنی ہی خوشبو آتی رہے تو یہ ضروری نہیں کہ آپ نے بہت زیادہ عطر لگایا ہے، بلکہ ممکن ہے کہ یہ خوشبو آپ کے لیے موزوں نہ ہو۔

عطر کی تیزی کم کرنے کے طریقے

اگر عطر زیادہ لگ جائے تو چند آسان طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے کپڑے تبدیل کر لیں، کیونکہ عطر کپڑے پر بھی چپک جاتا ہے، چاہے اسے براہِ راست کپڑے پر چھڑکا گیا ہو یا جلد پر۔ اس سے خوشبو کی شدت کم ہو سکتی ہے۔

اگر یہ ممکن نہ ہو یا کافی نہ ہو تو بہتر ہے کہ اس جگہ کو دھو لیا جائے جہاں عطر لگایا گیا ہے۔ چونکہ زیادہ تر عطر کی بنیاد تیل پر ہوتی ہے اور وہ جلد سے اچھی طرح چپک جاتے ہیں، اس لیے صرف پانی کافی نہیں ہوتا؛ صابن استعمال کریں یا بغیر خوشبو والے مائسیلر واٹر میں بھیگی روئی سے صاف کریں۔ضرورت پڑنے پر الکحل میں بھیگی روئی سے بھی صاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ طریقہ جلد کو بہت خشک کر سکتا ہے۔

زیادہ عطر لگنے پر کن باتوں سے پرہیز کریں

کچھ لوگ خوشبو کی تیزی کم کرنے کے لیے اس کے اوپر دوسرا عطر لگا لیتے ہیں، لیکن یہ مفید نہیں بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس سے غیر متوازن خوشبو بن جاتی ہے اور ناپسندیدہ مہک مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔

اسی طرح یہ خیال بھی غلط ہے کہ عطر والی جگہ پر بغیر خوشبو والا لوشن لگانے سے خوشبو کم ہو جائے گی۔ حقیقت میں لوشن بھی تیل دار ہوتا ہے اور عطر کی پائیداری کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

آخر میں اس جگہ کو ہیئر ڈرائر یا زیادہ گرمی کے سامنے رکھنے سے بھی گریز کریں۔ گرمی خوشبو کے انداز کو بدل سکتی ہے یا بعض اجزا کو آکسائیڈائز کر سکتی ہے، جیسے ونیلا کا رنگ سرخی مائل ہو کر جلد پر سیاہ دھبے بھی پیدا کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں