سفید بالوں اور ذہنی دباؤں کا نئی تحقیق میں دلچسپ تعلق بے نقاب
کیا واقعی نفسیاتی صدمات یا ذہنی دباؤ بالوں کو سفید کر سکتے ہیں؟ غلط فہمیوں اور جدید سائنسی تحقیقات کے درمیان سائنس اس موضوع پر کیا کہتی ہے؟
یہ خیال کہ شدید نفسیاتی صدمہ راتوں رات بالوں کو سفید کر سکتا ہے، عوامی تصور میں گہرائی سے رچا ہوا ہے۔ مگر تازہ ترین مطالعات کے مطابق ذہنی دباؤ اور سفید بالوں کے درمیان تعلق ابھی واضح طور پر انسانی جسم میں ثابت نہیں ہوا۔
جو سفید بال اچانک صدمے کے بعد نظر آتے ہیں، وہ دراصل بصری فریب ہو سکتے ہیں، کیونکہ دباؤ کے بعد بالوں کا اچانک جھڑنا سفید بالوں کو زیادہ نمایاں کر دیتا ہے۔
سائنس میں اس مظہر کو ''اسٹریس ایلوپیشیا ''(Tstress-induced hair loss) کہا جاتا ہے، یعنی شدید ذہنی دباؤ کے باعث وقتی بال جھڑنا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ امتحانات یا دیگر ذہنی دباؤ کی صورت میں بال عارضی طور پر جھڑ سکتے ہیں۔
دباؤ اور میلانین خلیات کی کمی
اب تک انسانی جسم میں ذہنی دباؤ اور سفید بالوں کے درمیان کوئی قطعی تعلق ثابت نہیں ہوا، لیکن سائنس کچھ حیاتیاتی میکانزم کی نشاندہی کرتی ہے۔
مختلف مطالعوں سے معلوم ہوا ہے کہ میلانیَن خلیات میں آکسیڈیٹیو اسٹریس جمع ہونے سے ان کی تعداد کم ہو جاتی ہے، جس سے بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہ آکسیڈیٹیو اسٹریس ماحول یا طرزِ زندگی کی وجہ سے بڑھ سکتا ہے۔ غذائیت کی کمی، آلودگی، تمباکو نوشی یا دیگر عوامل بھی بالوں کے سفید ہونے کی رفتار کو تیز کر سکتے ہیں۔
مطالعے کیا دکھاتے ہیں
2020 میں ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق (چوہوں پر) نے بتایا کہ شدید دباؤ نورایڈرینالین کے اخراج کو بڑھاتا ہے، جو بالوں کی جڑوں میں موجود میلانیَن سٹیم سیلز کے مستقل نقصان کا سبب بنتا ہے۔
یہ میکانزم چوہوں میں واضح طور پر دیکھا گیا اور دباؤ براہِ راست اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر میلانیَن پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کر دیتا ہے۔ تاہم اس کا براہِ راست اطلاق انسانوں پر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ابھی تک انسانی جسم میں اس کا ثبوت نہیں ملا۔
ذہنی دباؤ اور سفید بالوں کے درمیان تعلق
2021 میں کولمبیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق (شائع شدہeLife) نے انسانوں میں یہ پیش رفت دکھائی کہ بعض حالات میں بالوں کے سفید ہونے کا عمل جزوی طور پر پلٹایا جا سکتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں یا جب سفید بال ابھی شروع ہوئے ہوں۔ یہ انحصار میلانیَن سٹیم سیلز کی باقی ماندہ تعداد پر ہوتا ہے۔ ایک بار یہ خلیات ختم ہو جائیں تو تبدیلی مستقل ہو جاتی ہے۔
کیا اس سے بچا جا سکتا ہے؟
اب تک کوئی ایسا حل نہیں ہے ،جو سفید بالوں کو مکمل طور پر روک سکے۔ تاہم مستقبل میں خلیات کی عمر کو بڑھانے والی تحقیقات ممکنہ طور پر سفید بالوں کے عمل کو سست یا روک سکتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ مزمن ذہنی دباؤ کا نظم بالوں میں رنگت پیدا کرنے کی صلاحیت کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مناسب نیند، متوازن غذائیت، ورزش اور دباؤ کو کم کرنا بالوں کی صحت اور نوجوانی کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کے سب سے مؤثر طریقے ہیں۔