"اے میرے خدا... ہم نے یہ کیا کر ڈالا"... ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے والے پائلٹ کا پیغام
آج سے تقریبا 81 برس پہلے ... 6 اگست 1945 کی صبح ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے والے طیارے "انولا گے" کے 26 سالہ معاون پائلٹ امریکی کیپٹن رابرٹ اے لیوس نے اپنی نوٹ بک میں لکھا کہ ان کے نیچے موجود بادل چھٹنا شروع ہو گئے ہیں اور جاپانی شہر کی طرف سفر جاری رکھنے کے لیے موسم سازگار معلوم ہوتا ہے۔
لیوس کا B-29 طیارہ ہیروشیما کے قریب پہنچ رہا تھا جو زمین کے نقشے سے مٹنے والا تھا۔ اس نے مزید لکھا "ہم بم گرانے سے اب تقریباً دو گھنٹے کی دوری پر ہیں۔ یہ ایک عجیب سا احساس ہے..."
تاہم، جب حملہ شروع ہوا تو اس بیس سالہ نوجوان نے اپنے وہ مشہور الفاظ لکھے "اے میرے خدا... ہم نے یہ کیا کر ڈالا۔"
مؤرخین کا اندازہ ہے کہ اس دن فوری طور پر 70 سے 80 ہزار کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے، جبکہ بعد کے مہینوں میں مزید ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے۔
آج کی نئی خبر یہ ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق لیوس کی اس تحریر کو، جو انہوں نے بمباری کے دوران اور بعد میں خطوط کی شکل میں لکھی تھی، کیلیفورنیا کے شہر پاساڈینا میں نایاب کتابوں کے ایک تاجر ڈین وٹمور نے 9 لاکھ 50 ہزار ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیا ہے۔
وٹمور کا کہنا ہے کہ "یہ دوسری جنگ عظیم سے متعلق اہم ترین دستاویزات میں سے ایک ہے۔ بہت سے پہلوؤں سے یہ بیسویں صدی میں پوری دنیا کے لیے ایک اہم ترین لمحے کی نمائندگی کرتی ہے۔"
واضح رہے کہ یہ پانچواں موقع ہے جب یہ ڈائری مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے۔ پہلی بار یہ 1971 میں ایک نیلامی کے دوران 37 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔ اس وقت لیوس خود بھی نیلامی میں موجود تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اسے بڑی تاریخی اہمیت کی حامل دستاویز سمجھتے تھے۔ انہوں نے تب کہا تھا کہ "مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے علاوہ اس کا اور کیا کروں۔"
اس کی آخری فروخت 2022 میں 5 لاکھ 43 ہزار ڈالر میں ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ لیوس نے یہ یاد داشتیں یا خطوط اس وقت کے "نیویارک ٹائمز" کے سائنس رپورٹر ولیم ایل لارنس کی درخواست پر لکھے تھے۔ لارنس کو ہیروشیما مشن میں لیوس کے ساتھ جانا تھا، لیکن وہ بحر الکاہل کے جزیرے ٹینیان پر بمبار طیارے کے اڈے پر تاخیر سے پہنچے تھے۔
مؤرخین گورڈن تھامس اور میکس مورگن وٹس کے مطابق، لیوس کا خیال تھا کہ یہ مشن انہیں "کچھ ڈالر" کما کر دے گا۔