جاسوس کے راز فاش کرنے پر برطانیہ میں قتل کی بڑی سازش بے نقاب
برطانوی عدالت نے پانچ ملزمان کو پھانسی دے کر ان کے سر قلم کرنے اور باقی کو آسٹریلیا بھیجنے کا حکم دیا
نپولین بوناپارٹ کے فرانس میں اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی یورپ ایک طویل عرصے تک نپولینی جنگوں کی لپیٹ میں رہا۔
یہ دراصل ایسی جنگیں تھیں، جن میں فرانس اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ ان اتحادوں سے تھا جو نپولین کے خلاف قائم ہوئے، جن میں خاص طور پر برطانیہ، روس، پروشیا اور آسٹریا شامل تھے۔
یہ جنگیں کئی برسوں تک جاری رہیں اور ان کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ بالآخر 1815 میں واٹرلو (Waterloo) کی جنگ کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوا اور نپولین ہمیشہ کے لیے اقتدار سے الگ ہو گیا۔
ان جنگوں نے یورپ میں شدید سماجی اور معاشی تباہی چھوڑ دی۔ عوامی غصے میں اضافے کے باعث برطانیہ میں ایک ایسی سازش بھی تقریباً وقوع پذیر ہو گئی، جس کا مقصد حکومتی افراد کو قتل کرنا تھا۔
نپولینی جنگوں کے بعد برطانیہ کی صورتحال
نپولینی جنگوں کے خاتمے کے بعد برطانیہ شدید معاشی اور سماجی بحران کا شکار ہو گیا۔ جنگ سے واپس آنے والے برطانوی فوجی بے روزگار ہو گئے اور معاشی زوال کے باعث انہیں ملازمتیں بھی نہ مل سکیں، کیونکہ وہ صنعتیں جو جنگ کے دوران عروج پر تھیں، اب کمزور پڑ چکی تھیں۔
دوسری جانب خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں، جس کے ساتھ ملک میں غربت میں بھی اضافہ ہوا۔
اس کی ایک بڑی وجہ ''کورن لاز''(Corn Laws) کا نفاذ تھا، جنہوں نے زمینداروں کو بڑے پیمانے پر مراعات فراہم کیں۔
اس خراب صورتحال کے نتیجے میں برطانیہ میں اصلاحی تحریکیں ابھر کر سامنے آئیں، جنہوں نے زیادہ جمہوریت اور حقِ رائے دہی کو وسیع کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ معاشرے کے مزید طبقات اس میں شامل ہو سکیں۔
ان تحریکوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کسانوں، مزدوروں اور غریب طبقے کی مدد کے لیے نئی معاشی اور سماجی پالیسیاں اختیار کرے۔
تاہم حکومت نے ان مطالبات کے بجائے سخت رویہ اپنایا، اصلاحی تحریکوں پر دباؤ ڈالا، ان کے رہنماؤں کو گرفتار کیا اور مزید قوانین بنا کر ان کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ اس سختی کے نتیجے میں کچھ اصلاح پسند افراد انتہا پسندی کی طرف مائل ہو گئے۔
حکومتی اراکین کے قتل کی سازش
ان ہی شدت پسند عناصر میں آرثر تھسل ووڈ (Arthur Thistlewood) کا نام نمایاں ہے، جس نے ایک گروہ تشکیل دیا اور برطانوی حکومت کے اہم اراکین، خصوصاً وزیر اعظم رابرٹ جینکنسن (لارڈ لیورپول) کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔
اس گروہ کا خیال تھا کہ حکمرانوں کو ختم کر کے برطانیہ میں بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔تاہم برطانوی حکام اس سازش کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس مقصد کے لیے جارج ایڈورڈز (George Edwards) نامی ایک خفیہ ایجنٹ کو سازشیوں کے گروہ میں داخل کیا گیا تاکہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔
منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے حکام نے ایک جال بچھایا اور جھوٹی خبر پھیلائی کہ حکومت لارڈ ہیروبی (Lord Harrowby) کے لندن میں واقع گھر میں ایک اجتماعی عشائیہ منعقد کرنے والی ہے، تاکہ سازشیوں کو وہاں اکٹھا کر کے گرفتار کیا جا سکے۔
قتل کی سازش کی ناکامی
22 اور 23 فروری 1820 کی درمیانی شب لندن کی کیٹو اسٹریٹ (Cato Street) میں واقع ایک اصطبل میں سازشی افراد جمع ہوئے۔
انہوں نے بندوقوں، سادہ بموں اور تلواروں سمیت اسلحہ تیار کیا اور اپنے منصوبے کو آخری شکل دینے لگے۔ اسی دوران برطانوی سکیورٹی فورسز نے وہاں چھاپہ مار دیا، جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں اور ایک سکیورٹی اہلکار تلوار کے وار سے ہلاک ہو گیا۔
بعد ازاں بیشتر سازشیوں نے مزاحمت کے بجائے ہتھیار ڈال دیے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔گرفتاری کے بعد ان پر ریاست کے خلاف سازش، آئین کا تختہ الٹنے کی کوشش اور تخریبی کارروائیوں کے لیے اسلحہ جمع کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔مقدمے کے بعد پانچ ملزمان جن میں آرثر تھسل ووڈ بھی شامل تھا، کو سزائے موت سنائی گئی۔
یہ سزا یکم مئی 1820 کو نافذ کی گئی، جس میں پہلے انہیں پھانسی دی گئی اور بعد ازاں ان کے سر قلم کیے گئے۔
باقی ملزمان کو آسٹریلیا جلاوطن کرنے کی سزا دی گئی، جو اس وقت برطانیہ کی ایک تعزیری کالونی تھی جہاں خطرناک مجرموں کو بھیجا جاتا تھا۔