فالج کے مریضوں کے لیے اسٹیم سیلز تھراپی ایک اہم پیش رفت
سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اسٹیم سیلز سے حاصل کی گئی دماغی خلیات کی پیوندکاری فالج کے بعد صرف زندہ رہنے میں مدد تک محدود نہیں، بلکہ اس سے زیادہ فوائد بھی فراہم کر سکتی ہے۔ یہ بات Sci Tech Daily کی رپورٹ میں شائع ہوئی ہے۔
خون کی شریانوں کی بحالی
زیورخ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کی ایک نئی تحقیق کے مطابق اسٹیم سیل علاج نے چوہوں میں فالج کے بعد بہتر بحالی میں مدد دی۔
اس علاج کے ذریعے دماغ میں متاثرہ نیورل روابط کو دوبارہ تشکیل دیا گیا، خون کی شریانوں کی مرمت ہوئی اور حرکت میں واضح بہتری دیکھی گئی۔
یہ نتائج اس امید کو تقویت دیتے ہیں کہ مستقبل میں ایسے علاج ممکن ہو سکتے ہیں ،جو فالج سے ہونے والے اس نقصان کو بھی بحال کر سکیں، جسے اس وقت مستقل سمجھا جاتا ہے۔
طویل المدتی معذوری
فالج دنیا بھر میں طویل المدتی معذوری کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے تو آکسیجن کی کمی کے باعث خلیات چند منٹوں میں مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
جلد یا ہڈیوں کے برعکس دماغ میں ضائع ہونے والے ٹشوز کو دوبارہ بنانے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے مریض عمر بھر کے لیے فالج، بولنے میں مشکلات یا یادداشت کی کمزوری جیسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
عصبی ابتدائی خلیات
سائنسدان برسوں سے ایسے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں، جن سے دماغ کو خود کو دوبارہ بنانے میں مدد دی جا سکے۔
تازہ تحقیق میں محققین نے ''نیورل پروجینیٹر سیلز'' یعنی عصبی ابتدائی خلیات استعمال کیے، جو ابتدائی مرحلے کی ایسی خلیات ہیں جو دماغ کے مختلف ٹشوز میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ خلیات ''انڈیوسڈ پلوری پوٹینٹ اسٹیم سیلز ''سے تیار کی گئیں، جو بالغ انسانی خلیات ہوتے ہیں ،جنہیں دوبارہ پروگرام کر کے اسٹیم سیلز جیسی خصوصیات دی جاتی ہیں۔
چوٹ کے ایک ہفتے بعد
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے یہ خلیات فالج کے شکار چوہوں کے دماغ میں چوٹ کے ایک ہفتے بعد پیوند کیں۔ یہ وقت انتہائی اہم ثابت ہوا۔
اس سے پہلے کی گئی پیوندکاری میں کامیابی کی شرح کم تھی، کیونکہ متاثرہ دماغ میں سوزش اور نقصان دہ کیمیائی سگنلز موجود رہتے ہیں۔
چند دن انتظار کرنے سے دماغ کی حالت نسبتاً مستحکم ہو گئی، جس سے پیوند کیے گئے خلیات کو بڑھنے اور کام کرنے کا بہتر موقع ملا۔
محققین اس وقت حیران رہ گئے جب نئے عصبی خلیات بننے لگے اور دماغی روابط دوبارہ تشکیل پاتے دکھائی دیے۔
اعصابی سرگرمی کو منظم کرنے والے خلیات
پانچ ہفتوں کے دوران پیوند کیے گئے خلیات زندہ رہے، قریبی دماغی بافتوں میں پھیل گئے اور زیادہ تر فعال عصبی خلیات میں تبدیل ہو گئے۔
ان میں سے کئی GABAergic neurons یعنی غابا نیورونز بن گئے، جو دماغی سرگرمی کو کم یا متوازن رکھنے والے مخصوص خلیات ہیں۔
فالج کے بعد ان خلیات کی تعداد میں نمایاں کمی آ جاتی ہے، حالانکہ یہ دماغی سگنلز کے توازن، حد سے زیادہ تحریک کو روکنے اور حرکت کے نظام کو ہم آہنگ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
فعال رابطے کرنے والے خلیات
یہ پیوند کیے گئے عصبی خلیات صرف متاثرہ دماغی بافتوں کے ساتھ موجود نہیں رہے بلکہ ان کے ساتھ فعال طور پر رابطہ بھی قائم کرتے رہے۔
شواہد سے ظاہر ہوا کہ یہ خلیات اردگرد موجود خلیات کے ساتھ سالماتی سگنلنگ سسٹمز کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں، جو نیورونز کی نشوونما نئے رابطوں (synapses) کی تشکیل اور ٹشوز کی مرمت سے وابستہ ہوتے ہیں۔
محققین نے کئی اہم حیاتیاتی راستوں کی نشاندہی کی جو اس تعامل میں شامل تھے، جن میں دماغی نیٹ ورکس کی دوبارہ تشکیل اور عصبی ریشوں (axons) کی رہنمائی کے ذریعے دوبارہ رابطے قائم کرنے والے سگنلز شامل ہیں۔مزید یہ کہ اسٹیم سیل تھراپی نے پورے متاثرہ دماغ میں ایک وسیع تر شفا بخش ردِعمل کو بھی متحرک کیا۔
خون دماغی رکاوٹ
جن چوہوں کو پیوندکاری کا علاج دیا گیا، ان میں فالج کے مقام کے قریب خون کی نئی شریانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس سے متاثرہ بافتوں میں خون کی گردش بہتر ہوئی۔
اس علاج نے سوزش کی سرگرمی کو بھی کم کیا اور خون دماغی رکاوٹ کو مضبوط بنایا۔ یہ رکاوٹ ایک حفاظتی جھلی ہے ،جو عام طور پر خون سے دماغ میں نقصان دہ مادوں کے داخلے کو روکتی ہے۔ اس رکاوٹ کا متاثر ہونا فالج کے بعد سوجن اور نقصان میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔
محققین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ متاثرہ علاقے کے اردگرد عصبی ریشوں کی نشوونما میں اضافہ ہوا۔ کچھ پیوند کیے گئے نیورونز حرکت اور حسی کنٹرول سے جڑے علاقوں تک پھیل گئے، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ نئے خلیات ممکنہ طور پر دماغ کے موجودہ نیٹ ورکس میں شامل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔اس کے نتیجے میں حرکت اور جسمانی ہم آہنگی میں بہتری کے آثار بھی دیکھے گئے۔
دیگر بحالی کے عمل
زیورخ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف ری جنریٹو میڈیسن کے کرسچن ٹاکن برگ کے مطابق نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عصبی اسٹیم سیلز نہ صرف نئے نیورونز تشکیل دیتی ہیں بلکہ جسم میں دیگر بحالی کے عمل کو بھی متحرک کرتی ہیں۔
اس وقت اسٹیم سیل پر مبنی کئی علاج انسانوں پر ابتدائی کلینیکل ٹرائلز کے مراحل میں ہیں، جن کا مقصد پارکنسن جیسے اعصابی امراض کا علاج ہے۔ ماہرین کے مطابق فالج بھی مستقبل میں ان بڑے اہداف میں شامل ہو سکتا ہے۔