سائنسدانوں نے سالوں تک حیران کرنے والا زحل کا ایک راز دریافت کر لیا

سیارے کی گردش کی رفتار میں تبدیلیاں ماحول میں ہواؤں سے جڑے پیچیدہ مظہر کی وجہ سے تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ماہرین فلکیات آخر کار سیارہ زحل سے جڑے سب سے زیادہ حیران کن معمعوں میں سے ایک کو حل کرنے میں اس وقت کامیاب ہو گئے جب "جیمز ویب" خلائی دوربین کے ذریعے کیے گئے مشاہدات نے انکشاف کیا کہ سیارے کی گردش کی رفتار میں دیکھی جانے والی تبدیلیاں کسی حقیقی تیزی یا سستی کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ اس کے ماحول میں ارورہ (قطبی شفق) اور ہواؤں سے جڑے ایک پیچیدہ مظہرے کی وجہ سے تھیں۔

’’ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ: سپیس فزکس‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق زحل کے شمالی قطب پر ارورہ گرمائش، ہواؤں اور برقی دھاروں کے ایک مسلسل چکر کو چلاتا ہے جس کی وجہ سے سیارے کی گردش کی رفتار ناپنے کے لیے استعمال ہونے والے سگنلز تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس سے یہ غلط تاثر ملتا ہے کہ وقت کے ساتھ اس کی گردش کی رفتار بدل رہی ہے۔

سالوں پر محیط ایک معمہ

سائنسی حیرت کئی دہائیاں پہلے شروع ہوئی تھی لیکن یہ 2004 میں اس وقت پھر سامنے آئی جب ناسا کے "کاسینی" خلائی جہاز کے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ زحل کی گردش کی رفتار توقع سے مختلف لگ رہی تھی۔ اس کی وضاحت کرنا مشکل تھا کیونکہ بڑے سیارے مختصر وقت میں اپنی گردش کی رفتار تبدیل نہیں کرتے۔ 2021 میں برطانیہ کی نارتھمبریا یونیورسٹی کے پروفیسر ٹوم ا سٹالارڈ کی سربراہی میں ایک تحقیقی ٹیم نے یہ تجویز پیش کی کہ اس کی وجہ خود سیارہ نہیں ہے بلکہ اس کی بالائی تہوں میں چلنے والی ہوائیں ہیں جو ارورہ سے جڑے برقی سگنلز کو متاثر کرتی ہیں۔

جیمز ویب نے فیصلہ کر دیا

اس مفروضے کی تصدیق کے لیے محققین نے زحل کے ایک پورے دن کے دوران اس کے شمالی ارورہ کے علاقے کا مشاہدہ کرنے کے لیے "جیمز ویب" دوربین کا استعمال کیا۔ ٹیم نے ایک مالیکیول، جسے "ٹرائی ہائیڈروجن آئن" کہا جاتا ہے، سے خارج ہونے والی روشنی کی پیمائش پر انحصار کیا جو بالائی ماحول میں درجہ حرارت کا ایک قدرتی اشارہ ہے۔ اس ڈیٹا نے قطبی علاقے میں درجہ حرارت اور چارج شدہ ذرات کی کثافت کے اب تک کے سب سے درست نقشے تیار کیے۔

نتائج نے دکھایا کہ ارورہ سے خارج ہونے والی توانائی ماحول کے مخصوص حصوں کو گرم کرتی ہے جس سے تیز ہوائیں چلتی ہیں جو بدلے میں برقی دھارے پیدا کرتی ہیں جو خود ارورہ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ ایک مسلسل اور خود کفیل چکر میں ہوتا ہے۔

خوبصورت روشنیوں سے بڑھ کر

پرافسیر اسٹالارڈ نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک سیاروی ہیٹ پمپ کی طرح ہے جہاں ارورہ ماحول کو گرم کرتا ہے جس سے ہوائیں چلتی ہیں اور ان سے برقی دھارے پیدا ہوتے ہیں جو دوبارہ ارورہ کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مشاہدات نے بالآخر وہ ثبوت فراہم کر دیا ہے جس کی سائنسدانوں کو زحل کی گردش کی رفتار میں ظاہری تبدیلیوں کی وجہ سمجھنے اور دہائیوں سے تحقیق طلب معاملے کو بند کرنے کے لیے ضرورت تھی۔

زحل سے آگے جانے والے نتائج

اس دریافت کی اہمیت صرف زحل تک محدود نہیں ہے کیونکہ نتائج سیارے کے ماحول اور اس کے مقناطیسی میدان کے درمیان ایک گہرے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو نظام شمسی کے اندر اور باہر دیگر دنیاؤں میں بھی ہو سکتا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ ان تعاملات کو سمجھنے سے مستقبل میں دور دراز کے سیاروں کے ماحول اور ان کے ارد گرد کی خلا کے ساتھ تعلق کو کنٹرول کرنے والے نئے میکانزم کو بے نقاب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے کائنات میں سیاروں کے ارتقا اور رہنے کے قابل ماحول کے مطالعے کے لیے نئے افق کھلتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size