کبوتر اپنے وطن واپس کیسے لوٹتے ہیں؟ راز ان کے جگر میں پوشیدہ
جگر میں زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے میں مدد دینے والے مدافعتی خلیات موجود ہوتے ہیں
کبوتر طویل فاصلے طے کرنے اور اپنے وطن واپس لوٹنے کی صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہے۔ کئی دہائیوں سے سائنسدان یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایسا کیسے کرتا ہے۔ ایک نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا کچھ جواب ایک غیر متوقع جگہ یعنی جگر میں چھپا ہو سکتا ہے۔
کبوتر کا جگر
سائنسی جریدے "سائنس" کے حوالے سے ویب سائٹ "سائٹیک ڈیلی" پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کبوتر کے جگر میں مخصوص مدافعتی خلیات ہوتے ہیں جو زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے میں اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس سے اسے ایک اندرونی قطب نما ملتا ہے جو نیویگیشن میں اس کا مددگار ثابت ہوتا ہے۔
مقناطیسی ادراک
ان مدافعتی خلیات کو 'میکروفیجز' کہا جاتا ہے اور یہ عام طور پر خون کے پرانے سرخ خلیات کو توڑنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کام کے دوران ان میں آئرنجمع ہو جاتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ آئرن ان خلیات کو منفرد کوانٹم خصوصیات فراہم کر سکتا ہے جو انہیں مقناطیسی میدانوں پر ردعمل ظاہر کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ جب ان خلیات کو ہٹایا گیا تو پرندوں کو اپنے وطن واپس لوٹنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
"بون یونیورسٹی" ہسپتال کے انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر میڈیسن اینڈ ایکسپیرینٹل امیونولوجی کے ڈائریکٹر اور اس تحقیق کے سینئر محققین میں سے ایک پروفیسر کرسچن کورٹس نے کہا کہ یہ بالکل غیر متوقع تھا کہ مدافعتی خلیات مقناطیسی میدانوں کے لیے سینسر کے طور پر کام کریں۔ تحقیق کے نتائج جانوروں میں مقناطیسی ادراک کے ایک ایسے طریقہ کار کو بے نقاب کرتے ہیں جو پہلے نامعلوم تھا۔ میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار اینیمل بیہیویئر کے ڈائریکٹر اور تحقیق کے دوسرے شریک محقق پروفیسر مارٹن وکیلسکی نے کہا کہ پرندوں کی رہنمائی میں جو چیز وجدان کی طرح لگتی ہے، ہو سکتا ہے کہ اس کی کوئی فزیکل بنیاد بھی ہو۔
پرندوں کی رہنمائی میں الجھا ہوا معمہ
سائنسدان طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ مہاجر پرندے اور نامہ بر کبوتر زمین کے مقناطیسی میدان کو رہنمائی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس میدان کو کیسے محسوس کرتے ہیں، یہ بات غیر واضح رہی۔ پچھلے خیالات نے یہ تجویز کیا تھا کہ پرندے شاید اپنی آنکھوں میں روشنی کے حساس مالیکیولز کے ذریعے یا اپنی چونچوں میں باریک مقناطیسی ذرات کے ذریعے مقناطیسی میدانوں کو محسوس کرتے ہیں۔ برسوں کی تحقیق کے باوجود دونوں میں سے کسی بھی تشریح کی تائید میں حتمی ثبوت حاصل کرنا مشکل تھا۔
ایک مختلف امکان
نئی تحقیق ایک مختلف امکان پیش کرتی ہے۔ بین الاقوامی تحقیقی ٹیم میں "بون یونیورسٹی" اور بون یونیورسٹی ہسپتال کے ماہرینِ مدافعت، "دوئسبرگ-ایسن یونیورسٹی" کے ماہرینِ طبیعیات اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار اینیمل بیہیویئر کے پرندوں کے ماہرین شامل تھے۔ مقناطیسی حساسیت کے مقامات کا تعین کرنے کے لیے محققین نے جسم کے کئی حصوں کا معائنہ کیا جنہیں ممکنہ امیدوار سمجھا جاتا تھا۔ ان ممکنہ مقامات میں آنکھیں، چونچ اور دماغ شامل تھیں۔ انہوں نے جگر اور تلی کا بھی مطالعہ کیا۔ "وائبریٹنگ سیمپل میگنیٹومیٹری" اور "میگنیٹک سیل سیپریشن" کہلانے والی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے ٹیم نے مختلف ٹشوز میں مقناطیسی خصوصیات کو ماپا۔
مقناطیسی خصوصیات
بون یونیورسٹی سے اس تحقیق کی مرکزی محقق، جنہوں نے مدافعتی کام کی قیادت کی، ڈاکٹر کلیفیا لیسوفسکی کہتی ہیں کہ کچھ ایسے اشارے ملے تھے کہ جگر اور تلی میں مقناطیسی خصوصیات ہیں کیونکہ وہ خون کے سرخ خلیات کو توڑتے ہیں۔ اس وجہ سے جسم میں آئرن کی ایک بڑی مقدار کو ذخیرہ کرتے ہیں۔ جگر جانچے گئے دیگر تمام ٹشوز میں نمایاں رہا جہاں لوہے کی سب سے زیادہ مقدار پائی گئی۔
"دوئسبرگ- ایسن یونیورسٹی" کے پروفیسر اولف وڈوالڈ نے بتایا کہ آئرن آکسائیڈ کے نینو ذرات میں تبدیل ہو جاتا ہے جس سے خلیات انتہائی مقناطیسی ہو جاتے ہیں اور مقناطیسی میدانوں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ سب سے مضبوط مقناطیسی ردعمل جگر کے ٹشوز میں پایا گیا۔ بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جگر کے میکروفیج خلیات ہی اس مقناطیسی ردعمل کا ذریعہ ہیں۔
کبوتروں کے مقناطیسی قطب نما کا امتحان
یہ تصدیق کرنے کے لیے کہ آیا یہ خلیات واقعی نیویگیشن پر اثر انداز ہوتے ہیں محققین نے جرمنی کے شہر کونسٹانز میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار آرنیتھولوجی میں بیس کلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے سے کبوتروں کی وطن واپسی کے تجربات کیے۔ جب جگر کے میکروفیج خلیات کو ہٹایا گیا تو پرندے ابر آلود دنوں میں، جب سورج غائب تھا، سمت کا احساس کھو بیٹھے۔ جہاں تک دھوپ والے دنوں کا تعلق ہے تو وہ کامیابی سے اپنے وطن واپس لوٹنے میں کامیاب رہے۔ اس دوران غالباً کبوتروں نے مقناطیسی اشاروں کے بجائے شمسی اشاروں پر انحصار کیا۔ نتائج نے بتایا کہ کبوتر متعدد نیویگیشن سسٹم استعمال کرتے ہیں اور مقناطیسی حساسیت اس وقت انتہائی اہم ہو جاتی ہے جب سورج سے بصری رہنمائی دستیاب نہ ہو۔
معلومات کی جگر سے دماغ تک رسائی
نیویگیشن پر خلیات کے اثرات کو ثابت کرنے کے بعد محققین نے یہ جانچ پڑتال کی کہ معلومات جگر سے دماغ تک کیسے منتقل ہوتی ہیں۔ الیکٹران مائکروسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے محققین نے دریافت کیا کہ آئرن سے بھرپور میکروفیجز نرو فائبرز کے قریب واقع ہیں۔ یہ ترتیب اعصابی نظام تک مقناطیسی معلومات پہنچانے کا ایک راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ لیسوفسکی نے کہا کہ یہ نتائج پہلا ٹھوس ثبوت پیش کرتے ہیں کہ جسم کے اندر زمین کے مقناطیسی میدان کو کیسے محسوس کیا جاتا ہے اور حرکت کی رہنمائی کے لیے اسے دماغ تک کیسے منتقل کیا جاتا ہے۔
محققین نے مزید کہا کہ یہ دریافت کئی معروف حیاتیاتی عمل کو یکجا کرتی ہے۔ اس عمل میں لوہے کا میٹابولزم اور مدافعتی و اعصابی نظام کے درمیان رابطہ بھی شامل ہے۔ یہ اس بات کی ممکنہ وضاحت ہے کہ جانور سمتوں کے تعین کے لیے زمین کے مقناطیسی میدان کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ وکیلسکی کہتے ہیں کہ جانوروں میں سمتوں کا تعین فطرت کے سب سے دلچسپ مظاہر میں سے ایک ہے۔ اگر مدافعتی خلیات پرندوں کے سمت محسوس کرنے کے طریقہ کار کا حصہ ہیں تو یہ نیویگیشن کے بارے میں ہماری سمجھ کو یکسر بدل دے گا۔
پرندوں سے آگے کے اثرات
اس حوالے سے ابھی بھی بہت سے سوالات باقی ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ دماغ جگر کے خلیات سے آنے والے سگنلز کو کیسے پروسیس کرتا ہے۔ یہ نتائج کبوتروں کے علاوہ دیگر اقسام تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ شارک مچھلیوں جیسے جانور روشنی پر انحصار کیے بغیر سمتوں کا تعین کرنے کے قابل ہوتے ہیں جو دوسری اقسام میں بھی اسی طرح کے طریقہ کار کی موجودگی کے احتمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ کام یہ جاننے کے راستے کھولتا ہے کہ آیا جانور اور شاید انسان بھی مقناطیسی میدانوں پر ایسے طریقوں سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں جنہیں ابھی تک پوری طرح سمجھا نہیں گیا ہے۔