.

رحمت کے پہاڑ ’جبل عرفہ‘ پر ایک نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رحمت کا پہاڑ جسے ’جبل عرفات ‘کہا جاتا ہے مکہ مکرمہ کے مشہور ترین مذہبی اور تاریخی پہاڑوں میں سے ایک ہے۔

یہ پہاڑ حجاج کرام کی عظمت کا امین اور شاہد ہے۔ میدان عرفات میں حجاج کرام پورا ایک دن گذراتے ہیں جسے عرف عام میں وقوف عرفہ کہا جاتا ہے۔ یہاں پر وقوف کرنے والے حجاج اللہ سے مناجات اور دعائیں مانگتے ہیں۔

جبل الرحمة .
جبل الرحمة .

جبل رحمت ایک چھوٹی پہاڑی ہے جہاں عرفات کے دن حاجی کھڑے ہونے کے لیے چڑھتے ہیں۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پہاڑی پر رکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے یہاں یہاں وقوف کیا۔ اس کا ہر حصہ وقوف ہے۔

جبل رحمت کے نام

عام لوگ جبل رحمت پہاڑ کو "القرین" کہتے ہیں۔ شاید اس پہاڑ کی چوٹی کا سینگ نما ہونا ہے۔ اسلامی جغرافیہ کی کتابوں میں اسے ’جبل الال‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایک اور نام النبات ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ آخری نام چٹانوں کو دیا گیا ہو جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف فرمایا۔

جبل رحمت کا پہاڑ آس پاس کے پہاڑوں کے سلسلے میں ایک چھوٹا پہاڑ ہے ، اس کی اونچائی 30 میٹر سے زیادہ نہیں ہے۔

حجۃ الوداع

احادیث میں حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عصر ادا کرنے کے بعد اپنی اونٹی کو القصویٰ پر سوار ہوئے اور وقوف کے مقام پر پہنچے۔ اونٹنی کے پیپٹ کو چٹانوں کی طرف موڑا۔ آپ قبلہ رخ ہوئے۔ آپ نے یہاں پر سورج کے کرے کے غائب ہونے تک وقوف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے یہاں وقوف کیا ہے۔

یہ سارے کا سارا موقف ہے۔ اسی موقعے پر’’اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا‘‘ آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ہے اور اسلام کے تمہارے دین ہونے پر راضی ہوں‘۔