17 سال بعد حج سیزن سردیوں میں آئے گا:محکمہ موسمیات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ہم ہر سال حج سیزن کو گرمیوں سے نکل کر سردیوں کی طرف منتقل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سترہ سال کےبعد حج سیزن سردیوں میں آئے گا۔

خیال رہے کہ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہےجب اس وقت حج سیزن جاری ہے اور حجاج کرام مناسک حج کے آخری ایام کی عبادات میں مصروف ہیں۔ اس سال حج سیزن پر غیر معمولی گرمی دیکھنے میں آئی ہے۔

شدید گرم موسم کے پیش نظر سعودی وزارت صحت نے حجاج کرام کو سن اسٹروک سے بچانےکے لیے ہرممکن اقدامات کیے تھے۔

اسی حوالے سے قومی مرکز برائے موسمیات کے سرکاری ترجمان حسین القحطانی نے انکشاف کیا کہ آئندہ برس کا حج موسم گرما میں آخری حج ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم 17 سال بعد موسم گرما میں حج نہیں کریں گے"۔

القحطانی نے مزید کہا کہ حج اگلے سال کے بعد 1447 ہجری سے شروع ہوکر 8 سال کے عرصے کے لیے موسم بہار میں منتقل ہوگا اور اس کے بعد مزید 8 سالوں میں حج کا موسم سردیوں کے موسم میں آئے گا۔ اس طرح ہم 16 سال کی مدت کے لیے گرمیوں کے موسم میں حج کو مکمل طور پر الوداع کریں گے۔یاد رہےکہ سعودی عرب میں گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت 45-47 ڈگری سیٹی گریڈ کےدرمیان ہوتا ہے۔

درایں اثناء سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے رکن اور موسمیاتی تبدیلی کے محقق ڈاکٹر منصور المزروعی نے کہا کہ حج کا موسم اس وقت گرمیوں میں آتا ہے، جبکہ اگلے سال بھی موسم گرما میں ہوگا۔ اس کے بعد بہ تدریج حج سیزن موسم بہار میں منتقل ہونا شروع ہوگا اور آٹھ سال موسم بہار میں حج جاری رہے گا۔

المزروعی کہتے ہیں کہ حج کا موسم سردیوں کے موسم میں آنے میں مزید آٹھ سال لگیں گے۔ جس کا آغاز ہجری سال 1454 ہجری سے شروع ہونے والا حج سیزن 1461ھ تک سردیوں میں رہے گا۔ 1462 اور 1469 ہجری کے درمیان کا عرصہ خزاں کے حج سیزن پر مشتمل ہوگا۔ س طرح یہ چار موسم 33 ہجری سالوں میں مکمل ہو کر 1470 ہجری کو ایک بار پھر حج سیزن گرمیوں میں آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں