سعودی عرب: حجاج کرام کو ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد طبی خدمات کی فراہمی
بہتر انتظامات کی وجہ سے گرمی سے ہونے والی تھکن کے کیسز میں 90 فیصد کمی
سعودی عرب کی صحت کی دیکھ بھال سے متعلق اداروں نے رواں حج سیزن کے آغاز سے اب تک حجاج کرام کو ایک لاکھ گیارہ ہزار سے زائد طبی خدمات فراہم کی ہیں۔ ان کا مقصد حج کے دوران ممکنہ طبی خطرات سے بروقت نمٹنا اور زائرین کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق یہ خدمات "صحت کے شعبے کی تبدیلی" اور "خدمتِ ضیوف الرحمن" جیسے پروگراموں کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں، جو سعودی وژن 2030 کا اہم حصہ ہیں۔
ہزاروں افراد نے طبی مراکز سے استفادہ کیا
اعداد و شمار کے مطابق 62 ہزار 534 حجاج نے صحت مراکز سے براہ راست استفادہ کیا، جب کہ ایمرجنسی شعبوں میں 28 ہزار 524 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ 3 ہزار 417 مریض آؤٹ ڈور کلینکس میں رجوع کر چکے ہیں، جبکہ 5 ہزار 136 افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا، جن میں 2 ہزار 350 مریض انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں زیرِ علاج ہیں۔
دل کی پیچیدہ سرجریاں بھی انجام دی گئیں
اب تک 214 کارڈیک کیتھ لیب کی کارروائیاں اور 18 اوپن ہارٹ سرجریز مکمل کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گرمی سے پیدا ہونے والی تھکن (Heat Exhaustion) کے 155 مریضوں کا کامیاب علاج بھی کیا گیا ہے، اور طبی نظام اس وقت بھی پوری طرح فعال ہے تاکہ تمام حجاج کو مسلسل طبی سہولتیں مہیا کی جا سکیں۔
شدید گرمی کے اثرات میں نمایاں کمی
وزارت صحت کے مطابق اس سال حج کے دوران گرمی سے ہونے والی تھکن کے کیسز میں 90 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ گزشتہ سال کی نسبت ایک بڑی کامیابی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مؤثر حفاظتی اقدامات، وسیع پیمانے پر آگاہی مہمات، اور صحت کے اداروں کے درمیان مربوط تعاون کا نتیجہ ہے، جس کے باعث حجاج کرام کو شدید گرمی سے تحفظ حاصل رہا۔