سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے ایامِ تشریق کے دوران رمی جمرات کے لیے حجاج کرام کی روانگی کے نظام کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ اقدام ضیوف الرحمان کی نقل و حرکت کو محفوظ، منظم اور پُرسکون بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ ان کے مناسک حج کا تجربہ مزید سہل اور خوشگوار بنایا جا سکے۔
یہ جامع منصوبہ وزارت کی اُس حکمت عملی کا حصہ ہے جو حج 1446ھ کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ اس حکمت عملی میں ایک متحدہ آپریشنل ماڈل اپنایا گیا ہے، جو تمام متعلقہ اداروں کو "مرکزِ تفویج و مشترکہ آپریشنز" کے تحت مربوط کرتا ہے۔ یہ مرکز رواں سال حج کے دوران ہجوم کی مؤثر نگرانی اور انتظام کا مرکزی ستون بن چکا ہے۔
تفویج کے شیڈول میں حجاج کی رہائش گاہوں، ان کے سفر کے راستوں اور مقررہ ٹرانسپورٹ ذرائع جیسے کہ مخصوص بسوں اور مشاعر ٹرین کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت رمی جمرات کے لیے حجاج کی روانگی کو مکمل طور پر منظم اور محفوظ بنایا گیا ہے۔ اس حکمت عملی نے عید الاضحیٰ کے روز حجاج کی سہولت سے رمی تک پہنچنے میں کامیابی کے نتائج پہلے ہی واضح کیے، جہاں تمام مراحل بغیر کسی ہجوم یا رکاوٹ کے طے پائے۔
اس منصوبے کی تیاری سے قبل متعدد فرضی مشقیں کی گئیں، جن میں رش اور تاخیر جیسے ممکنہ حالات کے مختلف منظرنامے شامل تھے۔ فیلڈ ٹیموں کو فوری ردعمل اور لمحہ بہ لمحہ رابطے کے لیے مکمل تربیت فراہم کی گئی تاکہ ہر صورتِ حال سے نمٹنے کی مکمل تیاری رہے۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں، وزارت کا "مرکزِ رصد و کنٹرول" چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے، جو جدید کیمروں، مرکزی ٹریکنگ سسٹم اور مصنوعی ذہانت سے لیس ہے۔ یہ نظام ہجوم کی نگرانی کرتا ہے اور بوقتِ ضرورت راستے تبدیل کر کے روانگی کو متوازن بناتا ہے۔
اس پورے عمل میں "نسک" ڈیجیٹل کارڈ نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کی مدد سے حجاج کو صرف متعین اوقات میں منشأۃ الجمرات تک رسائی دی گئی۔ یہ نظام "نسک" اور "توکلنا" پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط ہے۔
ایامِ تشریق کے شیڈول کی تکمیل اور گزشتہ دنوں کے کامیاب تفویج منصوبے، اس امر کی واضح دلیل ہیں کہ سعودی عرب کا حج انتظامی ماڈل مسلسل نکھر رہا ہے۔ یہ سب کچھ "خدمتِ ضیوف الرحمن پروگرام" اور ویژن 2030 کے تحت حجاج کرام کو ایک بہتر، منظم اور باوقار تجربہ فراہم کرنے کے اہداف کے مطابق ہو رہا ہے۔