.

شام، لیبیا سے پانچ گنا بڑا ملک ہے بائیڈن کا مضحکہ خیز انکشاف

مناظرے کے شریک بھی فاش غلطی کی نشاندہی میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جس ملک کی خلائی گاڑی مریخ سیارے سے تصویریں بنا سکتی ہو، اس کے سائنسدان ریموٹ کنڑول کے ذریعے لاکھوں میل دور سیارچوں پر تجربات کو الٹے ہاتھ کا کام کہتے نہ تھکتے ہوں، اسی ملک [امریکا] کے نائب صدر جو بائیڈن کو تاہم یہ معلوم نہیں کہ لیبیا رقبے کے لحاظ سے شام سے کئی گنا بڑا ملک ہے۔

یاد رہے کہ شمالی افریقہ کے اہم ملک لیبیا کا رقبہ دو ملین اور 760 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے جبکہ اس کے مقابلے میں شام کا رقبہ 185 ہزار 180 مربع کلومیٹر ہے، بالفاظ دیگر لیبیا کے اندر شام جیسے نو ملک سما سکتے ہیں۔



امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے اس جغرافیائی غلطی کا ارتکاب امریکی ریاست کینٹکی کے ڈینول شہر میں'سینٹر کولج' یونیورسٹی میں ایک مناظرے کے دوران کیا۔ ان کے اس خطاب کو امریکا میں چالیس جبکہ دنیا بھر میں دو سو ملین افراد براہ راست دیکھ رہے تھے۔

جو بائیڈن نے اس فاش غلطی کا ارتکاب امریکی صدارتی امیدوار مٹ رومنی کے نائب بول رایان سے یونیورسٹی میں ہونے والے اہم مناظرے میں کیا۔

دونوں مقررین کے درمیان دلائل کی حدت بڑھنے پر مناظرے کی ماڈیرٹر معروف امریکی صحافیہ مارتھا راڈٹز نے بیچ بچاؤ کے غرض سے مداخلت کی۔ انہوں نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سوال اٹھایا کہ امریکا، کیونکر شام میں لیبیا کی طرز کی مداخلت سے گریز کی پالیسی پر چل رہا ہے؟ امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے فورا جواب دیا کہ "شام کا جغرافیا، لیبیا سے پانچ گنا بڑا ہے اور یہ ہماری میں براہ راست عدم مداخلت میں پس و پیش کی سب سے بڑی وجہ ہے۔"

بائیڈن کے مدمقابل رایان اور ماڈریٹر کو بھی اوباما کے نائب کی اس فاش غلطی کا ادراک نہیں ہوا ورنہ وہ کچھ یوں جواب دیتیں کہ "وائٹ ہاؤس کو شام میں مداخلت سے پہلے وہاں کے بارے میں بنیادی نوعیت کی معلومات حاصل کر لینا چاہیں کیونکہ وہاں جو واقعات ہو رہے ہیں، ان کا براہ راست تعلق امریکا کی قومی سلامتی سے ہے۔"