.

یمن میں حوثی باغیوں کے ہاتھوں مساجد کی بے حرمتی

دسیوں مساجد جیل اور منشیات کے اڈوں میں تبدیل: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شمالی یمن میں علاحدگی پسند حوثیوں نے درجنوں مساجد کو جیل اور منشیات کے اڈوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

یہ انکشاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرنے والی تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کیا ہے۔ العربیہ کو ملنے والی رپورٹ کی کاپنی کے مطابق شمالی یمن کی صعدہ گورنری میں اہل سنت کی 36 مساجد کو شیعہ مسلک حوثی باغیوں نے جیلوں میں تبدیل رکھا ہے۔ ان 'عقوبت خانوں' میں حوثی مخالف اور حکومت نواز ہزاروں افراد قید ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی یمن میں سرگرم علاحدگی پسند حوثی قبائل کی اکثریت ایران نواز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صنعاء، تہران پر ان علاحدگی پسندوں کی سیاسی اور عسکری حمایت کا الزام عائد لگاتا ہے۔



رپورٹ میں حوثیوں کے زیر کنٹرول صعدہ اور حجۃ گورنریوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے صعدہ اور حجۃ کے سات اضلاع میں درجنوں مساجد کو قید خانوں میں تبدیل کر رکھا ہے۔ سحار ضلع میں 13 مساجد جیلوں میں تبدیل کی گئی ہیں جبکہ اس کے علاوہ رازح میں سات، الصفراء میں پانچ، حیدان میں چار، صعدہ اور مجز میں تین تین جبکہ باقم میں ایک مسجد کو حکومتی حامیوں کے لیے جیل بنایا گیا ہے۔



انسانی حقوق کی تنطیم نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں اہل سنت والجماعت مسلک کے پیروکاروں کے ساتھ کئے جانے والے معاندانہ سلوک اور ان کی مساجد پر حملوں سے متعلق دستاویزی ثبوت بھی شامل کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں باغیوں نے سن 2004ء میں حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کے بعد 2011ء کے اختتام تک صعدہ میں سنیوں کی 43 مسجدیں شہید کیں۔ دیگر مساجد کو جیلوں یا قات کی نشہ آور بوٹی سے لطف اندوز ہونے کی خاطر سجائی جانے والی محفلوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتی سات برسوں کے دوران حوثیوں نے صعدہ اور حجۃ کے علاقے میں 13 ہزار 910 سنگیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا۔ حکومتی حامیوں کو چن چن کرنشانہ بنایا گیا۔ حوثی شدت پسندوں کے حملوں میں 59 خواتین اور 48 بچوں سمیت 531 نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔