ایران: صدارتی انتخابات میں ووٹر تقسیم، مگر ووٹ ڈالنے کی شرح زیادہ
پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری، کسی امیدوار کو برتری حاصل نہیں
ایران میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹروں کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے اور پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی بڑی لمبی لمبی قطاریں نظر آئی ہیں۔
جمعہ کی شام پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ مصطفیٰ محمد نجار نے سرکاری پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں ٹرن آؤٹ بہت زیادہ رہا ہے اور ایرانیوں نے اپنے دشمنوں کے خلاف اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔
صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ جمعہ کی صبح آٹھ بجے شروع ہوئی تھی اور شام چھے بجے تک جاری رہی۔ تاہم ایرانی وزارت داخلہ نے پولنگ مراکز پر ووٹروں کی بڑی تعداد کی موجودگی کے پیش نظر ووٹ ڈالنے کے وقت میں مزید دو گھنٹے کا اضافہ کر دیا اور بعض علاقوں میں دوگھنٹے سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا تھا۔
بعض ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرن آؤٹ میں اضافے سے واحد اعتدال پسند امیدوار حسن روحانی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ملک کی خارجہ پالیسی کو ازسرنو استوار کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور شہری حقوق کے چارٹر کو بحال کرنے کی بات کی تھی جس کی وجہ سے تبدیلی کے خواہاں ووٹر ان کی جانب راغب ہوئے ہیں جبکہ اصلاح پسندوں نے بھی ووٹروں سے ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے کہا تھا۔
صدارتی انتخابات میں اعتدال پسند عالم دین حسن روحانی کے علاوہ سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی ،ایران کے سابق جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی، تہران کے سابق میئر محمد باقر قالی باف ،پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضایی اور سابق وزیر مواصلات محمد خرازی کے درمیان مقابلہ ہے۔
صدارتی انتخابات میں سخت گیروں نے خود کو ''اصولی'' قرار دیا تھا لیکن وہ کسی ایک امیدوار پر اتفاق رائے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے قدامت پسندوں کے ووٹ تقسیم ہوگئے ہیں۔اب صدارتی انتخاب کے رن آف کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ ایران کے آئین کے تحت اگر کوئی بھی امیدوار پچاس فی صد ووٹ نہ لے سکا تو پھر پہلے اور دوسرے نمبر پر رہنے والے امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوگا۔
ایرانی ووٹر قدامت پسند اور اعتدال پسند دودھڑوں میں واضح طور پر تقسیم نظر آئے ہیں۔انھوں نے اپنی اپنی پسند کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دیے ہیں۔قدامت پسندوں اور سخت گیروں نے سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی کے حق میں ووٹ دیے ہیں جبکہ اعتدال پسندوں اور اصلاح پسندوں نے حسن روحانی اور سعید جلیلی کے حق میں ووٹ دیے ہیں۔
ایران میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کے بعد رائے عامہ کا کوئی جائزہ سامنے نہیں آیا ہے جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ کس صدارتی امیدوار کے حق میں زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔