.

سعودی عرب: غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

ویزہ ریگولرائزیشن کی مدت پرسوں ختم ہو رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر تارکین وطن اور لیبر کو اصلاح احوال کے لیے دی گئی چھ ماہ کی مہلت کے پوری ہونے پر ان کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاض وزارت محنت و افرادی قوت کا کہنا ہے خلاف قانون لیبر کو کاغذات کی درستی اور دیگر معاملات کے حل کے لیے دی گئی چھ ماہ کی مدت میں مزید توسیع نہیں کی جا رہی ہے۔ یہ مہلت پرسوں اتوار کو ختم ہو رہی ہے جس کے بعد وزارت محنت کے کم سے کم ایک ہزار اہلکارغیر قانونی طور یر قیام پذیر تارکین وطن کی تلاش شروع کر دیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزارت لیبرکے ترجمان حطاب الغنزی نے ایک بیان میں اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ حکومت تارکین وطن کو اصلاح کے لیے مزید مہلت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ خلاف قانون قیام پذیرغیرملکی باشندوں کے خلاف کارروائی کا آغاز یکم محرم سے کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں حکومت نے پلان تیار کر لیا ہے اور وزارت لیبرکے ایک ہزار اہلکاروں کوالرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

قبل ازیں وزارت محنت کے سیکرٹری برائے تفتیشی امور عبداللہ ابو اثنین کا کہنا تھا کہ اصلاح احوال کے لیے حکومت کی جانب سے غیرملکیوں کو دی گئی چھ ماہ کی مہلت ختم ہوتے ہی ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ اس سلسلے میں ایک ہزارتفتیشی اہلکاروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ ملک موجود غیر قانونی طور پر قیام پذیر خواتین کے خلاف آپریشن کے بارے میں مسٹر عبداللہ کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف کارروائی زنانہ امور سےمتعلق مقامات پرخواتین تفتیشی اہلکار ہی کریں گی۔

انہوں نے تفتیشی اہلکاروں کو دی جانے والی سہولیات کے بارے میں کہا کہ خلاف قانون قیام پذیرغیرملکی لیبرکی تلاش کے لیے سرگرم اہلکاروں کو 200 کاریں، کام کاج کے مقامات کے بارے میں مکمل تفصیلات اور جدید مواصلاتی آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ کم وقت میں یہ آپریشن مکمل کیا جا سکے۔