.

ایران کے جوہری پروگرم کا "مثالی" حل عملا ناممکن ہے: اوباما

"واشنگٹن، تہران کے جوہری پروگرام کو پرامن بنانا چاہتا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما نےاعتراف کیا ہے کہ ایران کے جوہری تنازع کا "مثالی" ناممکن ہے۔ تاہم صدر اوباما کے بقول ہماری مساعی کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد تک محدود رکھنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ "ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ناخن برابر جوہری خطرے کو بھی ختم کر دیتے تاکہ جوہری پروگرام کا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کا معمولی امکان بھی نہ رہتا، لیکن ہم ایسا نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم ایران کو پرامن جوہری توانائی کے حصول تک محدود کریں گے۔ ہماری مساعی کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کے مطابق بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے مڈل ایسٹ پولیٹیکل سینٹر میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران باراک اوباما کا کہنا تھا کہ "میں ہر ایک کو یہ بات سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم ایران کے جوہری مسئلے کا سب کے لیے قابل قبول مثالی حل تلاش نہیں کرسکتے۔ اس لیے ہم خود کو ایک ایسے حل پر مجبور پاتے جس کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام کے خطرات کم سے کم کیے جا سکیں۔ ہماری مساعی کا مقصد یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت حاصل نہ کرے"۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ "ہم ایران کے جوہری پروگرام کا ایک ایسا مثالی حل تلاش کریں جس میں ہم ایرانی جوہری پروگرام کے تمام عناصر ترکیبی کو تباہ کر دیں، میرے خیال میں ایسا عملا ناممکن ہے"۔

امریکی صدرکا کہنا تھا کہ ہم ایران کے ایٹمی پروگرام کو بعض شرائط کے اندر محدود کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں ہم نے ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کا میکینزم بھی تیار کرلیا ہے۔ اس کے بدلے میں ایران کو محدود پیمانے پر یورنیم افزودگی کا حق دیا جائے گا۔