"سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، ویٹو کا استعمال ختم کیا جائے"

عالمی ادارہ شام، فلسطین جیسے مسائل کے حل میں ناکام رہا ہے: ریاض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیرعبداللہ بن یحیٰ المعلمی نے ایک مرتبہ پھر یقین دلایا ہے کہ ان کا ملک عالمی ادارے کے کردار کوشفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے ہرممکن تعاون اور سلامتی کونسل میں اصلاحات پر زور دیتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ اپنی کمزوریوں کے باعث معاصر عالمی مسائل بالخصوص شام اور فلسطین جیسے تنازعات کے حل میں ناکام رہا ہے۔

سعودی سفیر نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات بارے مذاکرات کے طریقہ کار سے متعلق اجلاس اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس وقت سلامتی اور امن وامان کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ مظلوم اقوام کی نظریں سلامتی کونسل جیسے نمائندہ عالمی ادارے پر ہیں لیکن یہ ادارہ اپنی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا ہے۔

المعلمی نے کہا کہ ان کا ملک سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے کردار سے مایوس نہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات کے بعد یہ ادارہ عالمی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ سعودی عرب خطرات کی گھنٹی اس وقت تک بجاتا رہے گا جب تک کہ سلامتی کونسل میں موثر اصلاحات کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔

یحیٰی المعلمی کا کہنا تھا کہ ہمارا اہم مطالبہ یہ ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ "ویٹو" پارو کا استعمال مکمل ختم کیا جائے اور اسے مکمل ختم کرنا ناممکن ہو تو کم سے کم اسے محدود ضرور کیا جائے، نیز ویٹو کے حق کے استعمال کے لیے مزید شرائط وضع کی جائیں۔ عالم اسلام کو بحرانوں سے نکالنے کا یہی ایک راستہ ہے۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کا دائرہ وسیع کیا جائے تا کہ عرب اور افریقی ملکوں اور دنیا کے دیگر خطوں کے ممالک کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں