.

پُرتشدد واقعات کے جُلو میں فریقین جنوبی یمن کے تنازع کے حل پر متفق

صدر عبد ربہ چھ صوبوں پر مشتمل وفاقی ریاست کے خواہاں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی یمن کے تنازع کے حل کے سلسلے میں طویل مذاکرات کے بعد فریقین نے مسئلے کے حل کے لیے ایک فارمولے پر دستخط کر دیے ہیں۔ صنعاء میں نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس اور جنوبی یمن کی نمائندہ قیادت نے مسئلے کے حل کے لیے ایک فارملے پر اتفاق کے بعد اس پرعمل درآمد کے لیے صدر عبد ربہ کو ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار دیا ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب جمال بن عمرنے میڈیا کو بتایا کہ گذشتہ روز ہونے والے مشاورتی اجلاس میں جنوبی یمن کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت نتیجہ خیز رہی ہے۔ مذاکرات میں ایک ابتدائی دستاویز پردستخط کیے ہیں۔ اجلاس میں صدر عبد ربہ منصور ھادی کو اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار سونپا ہے جو ملک میں صوبوں کی تعداد اور ریاست کی وفاقی حیثیت کا تعین کرے گی۔ یہ کمیٹی دو روز کے اندر صوبوں کی تعداد کا تعین کرے گی جسے جمعرات کے روز ہونے والے قومی مذاکراتی فورم میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

بن عمر کا کہنا تھا کہ تنازع کے تمام فریقین مسئلے کے منصفانہ حل کے خواہاں ہیں۔ اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں ملک کو وفاقی جمہوری ریاست قرار دینے کی حمایت کی گئی ہے۔ اس نئے ریاستی ڈھانچے کی روشنی میں ایک ایسا دستور وضع کیا جائے گا جس میں ریاست کے تمام طبقات کو مساوی حقوق اور قانون کی رو سے برابری کا درجہ حاصل ہوگا۔

یمنی ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق صدر منصورھادی ملک کو چھ صوبوں میں تقسیم کرنے کا رحجان رکھتے ہیں۔ ادھر جنوب مشرقی یمن کے ضلع عسیلان مین شبوہ کے مقام پرمسلح قبائل نے تیل پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی ہے۔ دو روز پیشتر شمال مشرقی یمن کے ضلع مآرب میں آل حویک کے مقام پر عسکریت پسندوں نے تیل پائپ لائن دھماکے سے تباہ کردی تھی۔

مقامی ذرائع کے مطابق عسیلان میں تیل پائپ لائن میں شرپسندوں کا 72 گھنٹے میں چوتھا بڑا حملہ ہے۔ اس تیل پائپ لائن کے ذریعے عسیلان سے خام تیل مآرب کی آئل ریفائنری کو فراہم کیا جاتا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عسیلان میں تیل پائپ لائن کو بموں سے اڑایا گیا۔ بم دھماکوں کے بعد گیس کو لگی آگ کے شعلے کئی کلومیٹر دور سے دیکھے جا سکتے تھے۔ دھماکوں کے بعد کارخانے کو تیل کی سپلائی معطل ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ عسیلان تیل پائپ لائن کو گذشتہ ماہ بھی کئی سلسلہ وار دھماکوں کے نتیجے میں تباہ کیا جاتا رہا ہے۔ شورش زدہ علاقے شبوہ میں پانچ مقامات سے خام تیل نکالا جاتا ہے جسے یومیہ پندرہ ہزار بیرل خاصل قدرتی تیل نکالا جاتا رہا ہے۔