.

الجزائر میں 17 اپریل کو صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان

صدارتی امیدوار 45 روز میں کاغذات نامزدگی آئینی کونسل کو پیش کرسکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے ملک میں 17 اپریل کو صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

صدربوتفلیقہ نے جمعہ کو ایک صدارتی فرمان جاری کیا ہے جس میں ملک کے انتخابی ادارے کو جمہوریہ الجزائر کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے کہا گیا ہے۔انتخابی قانون کے تحت اب صدارتی امیدوار آیندہ پینتالیس روز میں اپنے کاغذات نامزدگی آئینی کونسل کو پیش کریں گے جو دس روز میں ان کی جانچ پڑتال کے بعد اہل امیدواروں کا فیصلہ کرے گی۔

انتخابی قانون کے تحت ہر صدارتی امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ اپنے ساٹھ ہزار حمایتیوں کے دستخط بھی پیش کرے۔الجزائر کے تمام پچیس صوبوں میں سے ہر صوبے سے کسی بھی صدارتی امیدوار کو ڈیڑھ ہزار دستخط حاصل کرنا لازمی ہے۔

چھہتر سالہ عبدالعزیز بوتفلیقہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔ وہ گذشتہ روز ہی فرانس میں معمول کے چیک اپ کے بعد لوٹے تھےاور ان کی گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ شاید آیندہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لیں لیکن انھوں نے ابھی تک اپنے کسی جانشین کو نامزد نہیں کیا ہے۔وہ گذشتہ سال مسلسل تین ماہ تک پیرس میں زیر علاج رہے تھے اور اس کے بعد سے وہ منظر سے غائب ہیں۔

ان کی جماعت نیشنل لبریشن فرنٹ (ایف ایل این) نے نومبر 2013ء میں انھیں چوتھی مدت کے لیے باضابطہ طور پر اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا لیکن انھوں نے اس نامزدگی کو قبول یا رد کرنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

علیل الجزائری صدر نے اپریل 2012ء میں 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی نسل کے لوگوں کا وقت گزر چکا ہے۔ان کا اشارہ فرانس سے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے لیڈروں کی جانب تھا جو 1960ء کی دہائی سے ملک کا نظم ونسق چلاتے آ رہے ہیں۔

مگر گذشتہ مہینوں کے دوران بوتفلیقہ نے متعدد ایسے اقدامات کیے تھے جن سے مبصرین کے بہ قول یہ اشارہ ملتا تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدوار بننے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ان میں سے ایک اہم اقدام الجزائر کے محکمہ سراغرسانی اور سکیورٹی (ڈی آر ایس) میں بڑے پیمانے پر اتھل پتھل ہے۔اس محکمے کو سب سے مضبوط حکومتی ادارہ سمجھا جاتا ہے جو پس پردہ رہ کر ملک کا نظم ونسق چلا رہا ہے۔

واضح رہے کہ الجزائر میں سیاسی تبدیلیوں کو یورپ اور امریکا میں بڑے قریب سے دیکھا جاتا ہے۔الجزائر یورپ کو گیس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اور وہ القاعدہ کے خلاف دہشت گردی کی جنگ میں امریکا کا شراکت دار ہے۔

عبدالعزیز بوتفلیقہ پہلی مرتبہ 1999ء میں الجزائر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔2004ء میں وہ دوسری مرتبہ اور 2009ء میں تیسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کے تیسری مدت کے لیے انتخاب سے پہلے آئین میں ترامیم کی گئی تھیں کیونکہ الجزائری آئین کے تحت پہلے کوئی شخصیت تیسری مرتب ملک کا صدر نہیں بن سکتی تھی۔