.

بھنگ کا نشہ شراب سے کم خطرناک ہے: امریکی صدر اوباما

اوباما کو بھنگ پینے پر صرف غریب لڑکوں کے جیل جانے پر تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے بھنگ کے نشے کو نسبتا کم جبکہ شراب اور الکحل کے نشے کو زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اس امر پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ غربت زدہ بچے بھنگ کے استعمال پر جیلوں میں بند کر دیے جاتے ہیں، تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا بھنگ کی تعریف کرنا بھی ایک برا خیال ہے۔

امریکی صدر نے اس امر کا اظہار نیویارکر میگزین میں لکھے گئے ایک آرٹیکل میں کیا ہے ۔ انہوں نے امریکا میں غریب نوجوانوں کے بھنگ پینے کے جرم میں امیر لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ جیل جانے کا بھی بطور خاص ذکر کیا۔

امریکی صدر نے کہا بچپن میں وہ تمباکو نوشی کرتے تھے لیکن اسے انہوں نے ایک بری عادت اور عیب قرار دیا۔ اوباما نے مزید کہا اپنی نوجوانی میں جو وہ پیتے رہے وہ سگریٹ سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔

تمباکو نوشی، بھنگ اور الکحل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا '' میں نے اپنی دونوں بیٹیوں ساشا اور مالیا کو بھی یہی بتایا ہے کہ یہ ایک برا خیال ، وقت کا ضیاع اور غیر صحت مندانہ سرگرمی ہے۔

امریکی صدر کے مطابق امریکا میں متوسط طبقے کے لڑکے بھنگ پینے کے جرم میں کم ہی جیل جاتے جبکہ غریب لڑکوں کو جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے، ان کے بقول سیاہ فام امریکی بچے اور لاطینی امریکی بچے عام طور پر غریب ہوتے ہیں اس لیے وہ ناواجب طور پر ملنے والے سزاوں کے مستحق قرار پاتے ہیں۔''

اس بارے میں اوباما نے کہا '' معاشرے کیلیے یہ اہم ہے کہ معاشرے کی اکثریت ایک مرتبہ یا ایک سے زیادہ مرتبہ اس قانون شکنی کی مرتکب ہوتی ہے لیکن صرف چند لوگوں کو سزا کا مستحق سمجھا جاتا ہے، اس حوالے سے دو ریاستوں میں قانون سازی کی کوشش ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔''

صدر اوباما نے ان لوگوں کو مبالغے کا شکار قرار دیا جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھنگ کو قانونی جواز دینے سے مسائل حل ہو جائیں گے۔

واضح رہے امریکی ریاستیں واشنگٹن اور کولو راڈو اپنے ہاں تفریحی مارکیٹ کیلیے بھنگ کی پیداوار اور مارکیٹنگ کیلیے قانونی دائرے کار عمل میں لا رہی ہیں۔ کولو راڈو میں نیا قانون یکم جنوری سے زیر عمل آچکا ہے جبکہ واشنگٹن میں اسی سال کے دوران ایسا متوقع ہے۔