ترک فضائیہ کی شام میں"داعش" کے ٹھکانوں، قافلوں پر بمباری
شامی باغیوں کےخلاف ترک فوج کی پہلی کارروائی
ترکی کی مُسلح افواج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ فوج نے شمالی شام میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کے ایک قافلے اور متعدد ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔
مسلح افواج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی شام میں داعش کے ایک قافلے کو جنگی جہازوں سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ شام میں القاعدہ اور اس کی معاون تنظیموں کے خلاف ترک فوج کی یہ اب تک کی پہلی کارروائی ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ فوج نے شام میں داعش کے ایک قافلے پر حملہ کر کے ایک "پک اپ" ٹرک اور ایک بس تباہ کر دیے ہیں۔ بیان کے مطابق ترک فوج کی جانب سے القاعدہ سے منسلک تنظیم کےخلاف کارروائی اس وقت کی گئی جب سرحدی شہر کیلیس کے قصبے 'کوبان بیک' میں فوج کی دو گاڑیوں پر سرحد پار سے القاعدہ کے مبینہ عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی تھی، تاہم فائرنگ کے اس واقعے میں ترک فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ترک ذرائع ابلاغ نے بھی دو فوجی گاڑیوں پر شام کی حدود سے فائرنگ کی خبر کی تصدیق کی ہے۔
خیال رہے کہ ترکی اور شامی حکومت کے درمیان پچھلے تین سال سے سخت تناؤ پایا جا رہا ہے۔ دمشق حکومت ترکی پر شام میں باغی گروپوں کو اسلحہ کی فراہمی کا الزام عائد کرتی رہی ہے اور انقرہ کی جانب سے شامی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا جاتا رہا ہے۔ البتہ سفارتی محاذ پر ترکی کا وزن شامی باغیوں ہی کے ساتھ رہا ہے۔ ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن متعدد مرتبہ صدر بشارالاسد کو جنگی مُجرم قرار دے کران سے حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
-
ایردوآن کا دورہ تہران، ترکی اور ایران کے باہمی تعلقات کا ایک نیا باب
دورے کا مقصد انقرہ اور تہران کے درمیان سیاسی، اقتصادی اشتراک عمل میں بہتری ہے
بين الاقوامى -
ترکی: سیاسی جماعت کے دفتر پر حملہ، پارٹی ترجمان ہلاک
دائیں بازو کی جماعت نے دفتر مقامی انتخابات کیلیے کھولا تھا
بين الاقوامى -
ترکی میں محکمانہ تطہیر تیز: بنک، ٹیلی کام انڈسٹری بھی زد میں
سرکاری ٹی وی سے بھی کئی افراد کی چھٹی، نئے قوانین کی تیاری
بين الاقوامى