.

بن غازی: مسلح محافظوں نے ہوائی اڈا بند کرا دیا

سکیورٹی گارڈز کا گذشتہ کئی ماہ سے رکی ہوئی تنخواہیں ادا کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں سکیورٹی گارڈز نے منگل کو زبردستی ہوائی اڈا بند کرا دیا ہے اور گذشتہ کئی ماہ سے رکی ہوئی اپنی تنخواہیں دینے اور گذشتہ ہفتے علاقے میں ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ائیرپورٹ کے ایک افسر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''ہوائی اڈے کی حفاظت پر مامور ایک مسلح یونٹ کے اہلکاروں نے رن وے کو بلاک کردیا ہے اور عملے کو مسافروں کے ٹرمینلز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے''۔اس افسر کے بہ قول محافظوں نے گذشتہ کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کی شکایت کی ہے اور انھوں نے اپنے اس مطالبے کو منوانے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔

بن غازی میں مسلح سکیورٹی گارڈز کے ہوائی اڈے کو بند کرانے کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لیبیا میں سابق مطلق العنان حکمران معمر قذافی کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کے آغاز کی تیسری سالگرہ منائی جارہی ہے۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق صدر معمرقذافی کی حکومت کے مسلح عوامی بغاوت کے نتیجے میں خاتمے کے بعد سے بدامنی اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔ طرابلس ،بن غازی اور دوسرے شہروں میں مسلح جنگجو دندناتے پھررہے ہیں۔وہ کسی حکومتی ادارے کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور وزیر اعظم علی زیدان کی حکومت ان مسلح جنگجوؤں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

لیبیا کے تمام چھوٹے بڑے مشرقی اور جنوبی شہراس وقت لاقانونیت کا شکار ہیں اور مسلح قبائلیوں نے گذشتہ موسم گرما سے لیبیا کے مشرقی علاقوں میں تیل کے کنووں اور دیگر تنصیبات پر قبضہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے تیل کی برآمدات ختم ہوکر رہ گئی ہیں۔مسلح جنگجو لیبیا کی سکیورٹی فورسز ،غیرملکیوں ،ججوں ،سیاسی کارکنان اور میڈیا کے نمائندوں کو آئے دن اپنے حملوں میں نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ امریکا نے دسمبر 2013ء میں دنیا بھر میں سراغرسانی سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ جنوبی لیبیا دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔اس میں جنوبی لیبیا میں ممکنہ فوجی مداخلت کا بھی عندیہ دیا گیا تھا۔