ڈنمارک میں جانوروں کے ذبح پر پابندی کے خلاف ردعمل

معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کا احترام ضروری ہے: یہودی رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ڈنمارک میں جانوروں کے حقوق سے متعلق اداروں کی کوششوں کے بعد جانوروں کے اسلامی اور یہودی طریقے سے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس موقع پر ملک کی نان آرتھو ڈاکس ترجیحات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جانوروں کے حقوق مذہب سے اہم ہیں۔

ڈنمارک کے وزیر خوراک و ذراعت ڈین جارگینسن نے ڈنمارک ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا '' جانوروں کے حقوق مذہب سے پہلے ہیں۔''

جانوروں کو ذبح کرنے سے متعلق قانون میں ترمیم جس کیلیے جانوروں کے حقوق سے متعلقہ ادارے طویل عرصے سے کوشش کر رہے تھے۔ یہودی کمیونٹی اور بلا منافع حلال گوشت کیلیے سرگرم ادارے نے اس فیصلے کو یہود مخالف اور مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔

اس گروپ نے اس فیصلے کیخلاف ایک درخواست بھی دائر کر دی ہے۔ مقامی یہودی رہنما فن شوارٹز نے اس بارے میں یروشلم پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا'' جب آپ کے معاشرے میں مذہبی اقلیتیں رہتی ہوں تو آپ کو ان کے حقوق کا بھی احترام کرنا چاہیے۔''

یہودی رہنما کا مزید کہنا تھا '' اگر اقلیتوں کی بعض چیزیں معاشرے کو ناپسند بھی ہوں تو انہیں برداشت کرنا چاہیے۔'' اس نئے فیصلے سے پورے خطے میں مذہبی حوالے سے مخالفانہ رد عمل پیدا کر دیا ہے۔

اسرائیل کیلیے ڈنمارک کے سفیر جیسپر واہر نے اس بارے میں کہا '' ربیوں کا اس بارے میں معاملہ بڑا توہین آمیز ہے۔'' جبکہ یورپی قانون جانوروں کو ہلاک کرنے کا ایک زیادہ انسانی طریقہ چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں