.

ملک کو خطرات میں چھوڑ کر استعفا نہیں دونگا: وزیر اعظم لیبیا

حکومت میں شامل بعض گروپ علی زیدان کے خلاف سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان نے کہا ہے وزارت عظمی سے استعفا دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے، تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا استعفا دے کر گھر نہ جانے کا ان کا فیصلہ کرسی سے محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ملک سے محبت کی وجہ سے ہے۔

'' العربیہ '' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علی زیدان نے کہا ''فی الوقت وزارت عظمی سے استعفا دینے کا کو ئی امکان نہیں ہے کیونکہ ملک کو سکیورٹی کے حوالے سے جس طرح کے چیلنج درپیش ہیں یہ چیلنج اور حالات اس امر کی اجازت نہیں دیتے کہ استعفا دیکر گھر چلا جاوں۔''

وزیر اعظم نے کہا ''اگر ملک کے مفاد میں ہوا اور میرے استعفے سے ملک کسی خطرے سے دوچار نہ ہو گیا تو مجھے مستعفی ہونے میں کوئی پریشانی نہ ہو گی۔ ''

انہوں نے بتایا کہ ''حکومت میں شامل بعض گروپ ان پر کیا گیا اعتماد واپس لینا چاہتے ہیں۔'' اعلی حکومتی عہدیداروں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ وزیر اعظم ایسے گروپوں کو کامیاب ہونے دینے کے بجائے خود استعفا دینا بہتر خیال کریں گے۔''حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم علی زیدان کے حوالے سے رپورٹس آتی رہی ہیں کہ وہ جلد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔

حکومت مخالف باغیوں نے تیل کی متعدد تنصیبات پر قبضہ کر لیا ہے۔ باغیوں کی کوشش ہے کہ تیل سے آمدن حاصل کریں۔ تاہم دھمکیوں کے باوجود حکومت نے باغیوں کے خلاف طاقت کا استعمال روک دیا ہے۔

وزیر اعظم علی زیدان نے کہا ''ہمیں مختلف معززین اور اسمبلی کے ارکان کی جانب سے کہا گیا ہے اس لیے حکومت نے تیل کی تنصیبات کی حفاظت کیلیے طاقت کے استعمال روک دیا ہے۔ ''

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لیبیا کی بحریہ نے شمالی کوریا کے تیل بردار جہاز کو باغیوں کے زیر قبضہ بندرگاہ سے روانہ ہونے سے روک دیا ہے جبکہ وزارت دفاع نے ایسے آئل ٹینکروں کی نگرانی کیلیے فضائیہ کو ذمہ داری سونپی ہے۔