.

ترکی میں ٹوئٹر کے استعمال پر پابندی عاید کر دی گئی

بین الاقوامی برادری نہیں، ملکی استحکام اہم ہے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ترکی میں سماجی رابطے اور اظہار رائے کا جدید وتیز رفتار ذریعہ '' ٹوئٹر'' خاموش ہو گیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام عاید کیا ہے کہ ٹوئٹر پر حکومت کی طرف سے پابندی لگائی گئی ہے۔

واضح رہے ٹوئٹر کی بندش کا یہ فیصلہ وزیر اعظم طیب ایردوآن کی طرف سے اس دھمکی '' ملک سے ٹوئٹر کو صاف کر دیا جائے گا '' کے محض چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹوئٹر کے ذریعے ان دنوں مبینہ حکومتی کرپشن کو اجاگر کیا جا رہا تھا۔

اس سے پہلے اسی وجہ سے وزیر اعظم طیب ایردوآن نے فیس بک کو ملک میں بند کر دینے کی دھمکی دی تھی۔ لیکن صدر عبداللہ گل نے بھی اس کی مخالفت کر دی تھی۔ ریاستی خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق حکام نے تکنیکی طور پر ٹوئٹر تک رسائی ناممکن بنائی ہے۔ کیونکہ ٹوئٹر پر کئی عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی کی جارہی تھی۔

اس حوالے سے کمیونیکیشن حکام نے چار مختلف عدالتی فیصلوں کو پیش کیا ہے جن کی اس سوشل میڈیا سے خلاف ورزی ہوتی رہی ہے۔ وزیر اعظم نے اس فیصلے سے قبل ایک عوامی ریلی سے خطاب کے دوران کہا تھا ملک میں ٹوئٹر تک رسائی روکی جا سکتی ہے۔

ایک سرکاری ذمہ دار کا کہنا تھا کہ ویب سائٹ کے بارے میں حفاظتی اقدامات عدالتی فیصلے کے مطابق کیے گئے ہیں۔ جمعرات کے روز وزیر اعظم نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا وہ ''اس کی پروا نہیں کہ اس بارے میں بین الاقوامی برادری کیا کہتی ہے، ہمیں صرف ترک جمہوریہ کے استحکام کو دیکھنا ہے۔''

ترکی میں 30 مارچ کو بلدیاتی انتخاب توقع ہیں ، لیکن حکومت کو کرپشن کے حوالے سے سخت مخالفانہ مہم کا سامنا ہے۔ ایردوآن حکومت کے با اثر مخالف فتح اللہ گولین بھی میڈیا میں ان دنوں متحرک ہیں۔