.

ترک بلدیاتی انتخابات میں چھے افراد ہلاک

آئینی ترامیم کے ذریعے صدارتی نظام کی بازگشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں اتوار کے روز شروع ہونے والے بلدیاتی انتخاب کے موقع پر حریف امیدواروں کے حامیوں کے درمیان تصادم میں چھے افراد جاں بحق ہو گئے۔

العربیہ ٹی وی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ چار افراد شامی سرحد سے متصل مشرقی صوبے سینلی رفا کے گاوں یاوچک میں آتشیں اسلحے کے تصادم میں مارے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تصادم کا آغاز انتخابی عمل شروع ہونےسے پہلے ہی ہو گیا تھا۔

دو مزید افراد حاطے صوبے کے گوباسی گاوں میں دو امیداروں کے رشتہ داروں کے درمیان مسلح تصادم میں ہلاک ہوئے۔ ترکی کے بلدیاتی انتخابات سے پہلے ملک میں کشیدگی کی فضا عام طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ ان انتخابات کو طیب ایردوآن اپنی ذات، کابینہ اور سیاسی جماعت پر لگنے والے الزامات کے جلو میں اپنے لئے بڑا چیلنج تصور کرتے ہیں۔

ادھر تُرکی سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوان نے آئین میں ترمیم یا بغیر کسی آئینی ترمیم کے پیش آئند صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کے ایک مقرب خاص اور خصوصی معاون طہ کینٹچ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ایردوآن ملک میں مکمل صدارتی نظام یا کم سے کم موجودہ اختیارات کے ساتھ سربراہ مملکت بننے کا قطعی ارادہ رکھتے ہیں۔

طہ کینٹچ کا کہنا ہے کہ طیب ایردوان کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے 99 فی صد امکانات موجود ہیں۔ وہ جلد ہی رواں سال اگست میں ہونے والے صدارتی انتخابات لڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیں گے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے مطابق ایردوآن نے نہ صرف اپنے پارٹی کے منشور میں ترمیم پر غور شروع کیا ہے بلکہ وہ ملک میں صدارتی یا نیم صدارتی نظام کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے حکمراں جماعت "آق" کے دستور میں یہ شرط شامل کر رکھی ہے کہ کوئی پارٹی رکن تین سے زائد مرتبہ ایک ہی عہدے پر تعینات نہیں ہو سکتا ہے۔ اب چونکہ پارٹی دستور خود اُن کی راہ میں بھی رکاوٹ بنا ہے، اس لیے وہ دستور میں ترمیم کر کے چوتھی مرتبہ بھی اپنی جماعت کے سربراہ بننا چاہتے ہیں۔

طہ کینٹچ کا مزید کہنا تھا کہ "آق" کی چوتھی مرتبہ قیادت صرف ایردوان کی خواہش نہیں بلکہ پارٹی کے عام کارکن بھی یہی چاہتے ہیں۔ طلحہ کے بقول "میری معلومات کی حد تک طیب ایردوآن اپنے اصول و مبادی سے پیچھے ہٹنے والے نہیں بلکہ وہ خود کو ایک طاقتور صدر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

طہ کینٹچ نے کہا کہ ملک میں اس وقت پارلیمانی نظام رائج ہے لیکن ایردوآن ملک میں مکمل یا نیم صدارتی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ نئے پارلیمانی انتخابات کے بعد ملک میں دستوری ترامیم کا باب دوبارہ کھل سکتا ہے۔

بلدیاتی انتخاب اور اپوزیشن پر تنقید

ترکی میں آج 30 مارچ کو بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے۔ انتخاب میں 52.7 ملین شہری اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ انتخابی معرکے میں وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کے حامیوں کو اپوزیشن کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے، لیکن وزیر اعظم نے حزب اختلاف کی تنقید کے جواب میں انہیں "خائن" قرار دیا ہے۔ طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی خفیہ ٹیپس کا سوشل میڈیا کے ذریعے افشاء ایک سازش ہے جس میں ملک وقوم کے ساتھ بد دیانتی رکھنے والے عناصر ملوث ہیں۔

گذشتہ روز استنبول میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران سیاسی مخالفین کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "یہ سب بد دیانت لوگ ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ کل بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ میں اپوزیشن کو چیلنج کرتا ہوں کہ ان کے لیے میدان کھلا ہے۔ جو چاہتے ہیں کر گذریں، ہم بھی انہیں سبق سکھا دیں گے۔ انہوں نے ہمیں للکارا ہے۔ ہم بھی انہیں عثمانی مکا رسید کریں گے"

انتخابی نتائج کے اثرات

ترکی میں سنہ 2002ء کے بلدیاتی اور پارلیمانی انتخابات میں ایردوان کی جماعت "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ" نے 50 فی صد تک ووٹ حاصل کئے تھے لیکن سنہ 2011ء کے پارلیمانی انتخابات میں ان کے ووٹ بنک میں پہلے کی نسبت کمی آئی۔ مبصرین کے خیال میں حکمراں جماعت کو موجودہ بلدیاتی الیکشن میں 40 سے 45 فی صد ووٹ ملنے کے امکانات ہیں۔ جبکہ پانچ سال قبل حکمران جماعت کو 38 فی صد ووٹ ملے تھے۔ انقرہ اور استنبول حکمراں جماعت کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم ترین قرار دیے جاتے ہیں۔ اگر ان دونوں شہروں میں اپوزیشن کے امیدوار کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ایردوان کی جماعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔