ایردوآن کا بلدیاتی انتخابات میں جماعت کی کامیابی کا دعویٰ
حکومت مخالفین کومعاندانہ سازش کی قیمت چکانا پڑے گی:غیر حتمی نتائج کے بعد بیان
ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے ملک میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی جماعت کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ان کے حریفوں کو ان کے اقتدار کے خاتمے کی سازش کی قیمت چکانا پڑے گی۔
اتوار کی رات گئے تک بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی نصف گنتی مکمل ہوچکی تھی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق وزیراعظم ایردوآن کی جماعت ترقی اور عدل پارٹی (اے کے) کو 44 سے 46 فی صد ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل تھی۔اس کی قریب ترین حریف جدید سیکولر ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک کی قائم کردہ جماعت تھی اور اس نے 23 سے 28فی صد تک ووٹ حاصل کیے تھے۔
ترکی کے اعلیٰ انتخابی بورڈ کے مطابق ملک بھر میں پانچ کروڑ سے زیادہ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے اور انھوں نے میئروں اور مقامی اسمبلیوں کے چناؤ کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔ملک بھر میں دو لاکھ سے زیادہ پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔
قبل ازیں بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں چھے افراد مارے گئے۔شام کی سرحد کے نزدیک واقع مشرقی صوبہ سنلیرفہ کے ایک گاؤں یوواچک میں حریف امیدواروں کے حامیوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
رجب طیب ایردوآن کو بلدیاتی انتخابات سے قبل اپنے گیارہ سالہ دواقتدار میں بدترین بحران کا سامنا تھا اور ان انتخابات کو ان کی حکومت کے لیے ایک ریفرینڈم قراردیا جارہا تھا۔ان کی حکومت کے خلاف گذشتہ سال جون کے بعد سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ان کے اور ان کے بعض قریبی مصاحبین کے بارے میں آن لائن ویڈیو ٹیپس جاری کی گئی تھیں جن میں ان کی حکومت پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عاید کیے گئے ہیں اور اس کرپشن اسکینڈل کو ان کی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا تھا۔
ایردوآن نے استنبول میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ ''حزب اختلاف کے ناپسندیدہ بیانات اور تقریروں کے باوجود ہمارے لوگ آج سچ بیان کریں گے اور لوگوں نے جو کچھ کہنا ہے،وہ کہہ دیا ہے۔لوگوں کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے''۔
دوسری جانب سیکولر حزب اختلاف کے سربراہ کمال قلیچ دار اوغلو نے استنبول شہر کے یورپی حصے میں ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ ''ہماری جمہوریت کو مضبوط اور صاف ہونا چاہیے۔ہماری جمہوریت شاندار ہونی چاہیے اور مجھے اپنی قوم پر اعتماد ہے''۔
صدر عبداللہ گل نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کہا کہ''ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ کیسے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں''۔انھوں نے ہر کسی پر زوردیا کہ وہ بالغ نظری کے ساتھ انتخابی نتائج کو تسلیم کرے اور ان کا احترام کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ''ہماری قوم مضبوط ہے اور ہرکسی کو اس میں یقین ہونا چاہیے۔تمام چیلنجز کا قانون کے مطابق مقابلہ کیا جانا چاہیے اور ترکی مضبوط طریقے سے آگے بڑھے گا''۔
-
چین سے اسلحہ کی ڈیل کرنے والا ترک افسر برطرف
ترکی چین سے دفاعی میزائل نظام لینے کیلیے 2013 سے کوشاں ہے
بين الاقوامى -
ترکی: ٹویٹر پر پابندی کے بعد یو ٹیوب بھی بلاک
ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ...
بين الاقوامى -
ترکی میں ٹوئٹر کے استعمال پر پابندی عاید کر دی گئی
بین الاقوامی برادری نہیں، ملکی استحکام اہم ہے: ایردوآن
بين الاقوامى -
ترکی: نجی سکولوں کی بندش کیلیے قانون منظور
فتح اللہ گولین کے تعلیمی ادارے بھی زد میں آئیں گے
بين الاقوامى -
ترکی: خفیہ اداروں کا دائرہ اختیار بڑھانے کیلیے بل پارلیمنٹ میں پیش
ادارے عدالتی منظوری کے بغیر ملک کے اندر اور باہر مشن بھیج سکیں گے
بين الاقوامى -
وزیر اعظم ایردوآن پر تنقید، صحافی ترکی سے بے دخل
آذربائیجانی ماہر زینالوف کا نام ترکی کے ناپسندیدہ صحافیوں کی فہرست میں شامل
بين الاقوامى