.

ایران، روس تیل کے بدلے خوراک معاہدے پر امریکا چراغ پا

معاہدے کی صورت میں ماسکو کو اقتصادی پابندیوں کی امریکی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے روس اور ایران کے درمیان تیل کے بدلے خوراک کے ممکنہ معاہدے کی سخت مخالفت کی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ جاک لو نے اپنے روسی ہم منصب سے کہا ہے ماسکو، ایران کے ساتھ تیل کے بدلے خوراک کے معاہدے سے باز رہے۔ جاک لو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو روس کے اس اقدام پر گہری تشویش ہے اور اس کے رد عمل میں ماسکو کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر خزانہ جاک لو نے ان کے روسی ہم منصب انٹون سیلوانوف سے ملاقات کی جس میں مسٹر لو نے انہیں بتایا کہ ہمیں ایران کے ساتھ ماسکو کے تیل کے بدلے خوراک کے ممکنہ معاہدے پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے روسی ہم منصب سے کہا کہ اگر ماسکو، ایران سے تیل کی خریداری کا معاہدہ کرتا ہے تو اسے عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں روسی حکومت کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ ماسکو، تہران سے تیل کے بدلے خوراک کا ایک معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے ایسی کسی ڈیل کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔