.

"ایران ایٹم بم بنا لے تب بھی امریکا کو اس پر حملہ نہیں کرنا چاہیے"

اسرائیل، ایران پر حملےکی صلاحیت نہیں رکھتا: جمی کارٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے ایران کے خلاف کسی بھی صورت میں فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران ایٹم بم بھی تیار کر لے تب بھی امریکا کے لیے ایران پر حملہ قطعی غیر مناسب ہے۔

امریکی ٹیلی ویژن MSNBC کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جمی کارٹر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس ایران پر حملے کی فوجی صلاحیت نہیں ہے۔ اسرائیل زیادہ سے زیادہ 12سو میل کے فاصلے تک حملہ کر سکتا ہے۔ موجودہ فوجی صلاحیت کے ساتھ اگر تل ابیب، تہران کے خلاف فوجی کارروائی کرتا ہے تو یہ خود اسرائیل کے لیےایک خطرہ ہے کیونکہ اتنی دور کارروائی اسرائیلی فوج کے بس کی بات نہیں ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں واقع ملک پر حملہ یا فوجیں اتارنے کی صلاحیت صرف امریکا کے پاس ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ واشنگٹن، تہران پر چڑھائی کر دے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تہران جوہری بم بنا کر دنیا کے لیے خطرہ بن جائے تب امریکا کو کیا کرنا چاہیے تو انہوں نے جواب دیا کہ "کچھ نہیں کیونکہ جوہری ہتھیار بنا کر بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اسرائیل کے پاس 300 سے زائد ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں بلکہ ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کسی کو اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کی درست تعداد معلوم ہی نہیں۔ جب اسرائیل کے پاس غیر علانیہ اتنے زیادہ ہتھیار ہیں اور اس سے کسی کو خطرہ نہیں تو ایران سے کس کو خطرہ ہو گا"۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر ایرانی یہ جانتا ہے کہ اگر ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کرے گا تو یہ ایران کی تباہی کا موجب ہو گا۔ لہٰذا کوئی ایرانی اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالے گا۔

خیال رہے کہ 89 سالہ جمی کارٹر امریکا کے 39 ویں صدر رہے ہیں۔ وہ 1977ء سے 1981ء کے دوران امریکا کے صدر رہے۔ سنہ 2002ء ان کی امن مساعی کے اعتراف میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔