بوتفلیقہ کی صدارتی انتخاب میں برتری پر حامیوں کا جشن
مدمقابل بن فلیس کا حکومت پر انتخابی خیانت کاری کا الزام
الجزائر سے 'العربیہ' کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے ساٹھ فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آنے والے غیر سرکاری نتیجے کے مطابق عبدالعزیز بوتفلیقہ کو اپنے مدمقابل علی بن فلیس پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ اس اطلاع کے عام ہوتے ہی بوتفلیقہ کے حامیوں نے فتح کا پیشگی جشن منانے کے لئے دارلحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر رقص شروع کر دیا ہے۔
ادھر سابق صدر بوتفلیقہ کے مدمقابل اور مضبوط آزاد صدارتی امیدوار نے انتخاب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے روز وزیر داخلہ الطیب بلعیز کی جانب سے صدارتی انتخاب کے ابتدائی اور غیر حتمی سرکاری نتیجے کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں۔
نئی مدت صدارت کے لیے کوشاں بوتفلیقہ کے اہم مدمقابل علی بن فلیس کی انتخابی مہم کے نگران نے دعوی کیا ہے کہ موخر الذکر کو الجزائر کی مشرقی ریاستوں میں صدارتی انتخاب میں برتری حاصل ہے۔ الجزائر سے ملنے والی متضاد اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ہونے والا صدارتی انتخاب میں اصل مقابلہ بوتفلیقہ اور علی بن فلیس کے درمیان محدود رہا جبکہ چھے دوسرے امیدوار بھی قسمت آزمائی کے لیے میدان میں موجود تھے۔
بوتفلیقہ کے انتخابی دفتر کی مرکزی کمیٹی نے کامیابی کے پیشگی اعلان کے بعد جشن منانا شروع کر دیا ہے، سابق صدر کے حامیوں نے کامیابی کی اطلاع سنتے ہی شدید ہوائی فائرنگ کی جبکہ متعدد حامی قومی ترانے گاتے ہوئے سڑکوں پر جھومتے رہے۔
درایں اثنا الجزائر کے وزیر داخلہ الطيب بلعيز نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی امیدوار یا اس کے حامی سرکاری نتائج سے پہلے صدارتی انتخاب کے نتیجے کا اعلان کرنے سے باز رہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق وزیر داخلہ ہی صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتیجے کا اعلان کرنے کے مجاز ہیں جبکہ دستوری کونسل حتمی نتیجے کا اعلان کرے گی العربیہ کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو ہونے والے صداراتی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 70.51% رہی۔
العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق جمعہ کو علی الصباح ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بن فلیس نے کہا کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے اور اس میں ووٹروں کو خوفزدہ کرنے کے لئے طرح طرح کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔ پورے ملک میں انتخابی خیانت کاری کی گئی ہے۔
صدارتی امیدوار علی بن فلیس نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ میں ریاستی طاقت کے زور پر کی گئی دھاندلی کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ نیز مجھے سرکاری عمال کے ہاتھوں کرائی گئی انتخابی خیانت کاری کا شدید دکھ ہے کیونکہ اس سے عوامی خواہشات کا خون ہوا ہے اور یہ سب ہمارے مفادات کے خلاف ہے۔
بن فلیس نے ملک میں تبدیلی کے خواہشمند حلقوں پر زور دیا کہ وہ انتخابی دھاندلی کے خلاف پرامن مزاحمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرامن جدوجہد کو یقینی بنانے کی خاطر سیاسی میدان میں موجود رہیں گے۔