یوکرین بحران،دنیا روس کے خلاف متحد ہے:اوباما

امریکا کی روس مخالف یک طرفہ پابندیوں کا نظریہ مسترد،مشترکہ اقدام پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے یوکرین بحران کے معاملے پر روس کے خلاف یک طرفہ پابندیوں کے نظریے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا اور یورپ کو روس کے خلاف اجتماعی طور پر اقدام کرنا چاہیے اور اگر دنیا روس پر پابندیوں کے معاملے میں متحد ہوجاتی ہے تو پھر امریکا روسی صدر ولادی میر پوتین کو جھکانے میں زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوگا۔

صدر اوباما نے ان خیالات کا اظہار ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''روس کشیدگی کے خاتمے کے لیے جنیوا میں طے پائے معاہدے کی پاسداری نہیں کررہا ہے اور اس نے یوکرینی بحران کے حل میں مدد کے لیے ایک بھی انگلی نہیں اٹھائی ہے''۔

امریکی صدر کے بہ قول اس بات کے بیّن ثبوت موجود ہیں کہ روس مشرقی اور جنوبی یوکرین میں عدم استحکام کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روس کے خلاف نئی پابندیوں سے روس کو مشرقی یوکرین میں اشتعال انگیزی کی سرگرمیوں روکنے کے لیے ایک نیا پیغام جائے گا۔

انھوں نے روس کے اس موقف کو مسترد کردیا کہ امریکا اس کے ساتھ سرد جنگ کے زمانے ایسی محاذ آرائی کو ہوا دے رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حقیقی ایشو تو یوکرین کی آزادی اور خود مختاری ہے۔صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ''روس نے اس ایشو کو پُرامن طور پر طے کرنے کے بجائے اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے،اس کے مضمرات ہوں گے اور ان میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا''۔

ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی گروپ سات میں شامل ممالک نے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے اور یہ پابندیاں آیندہ چند روز میں نافذالعمل ہوجائیں گی۔اس گروپ کا کہنا ہے کہ روس نے جنیوا میں یوکرینی بحران کے حال کے لیے طے پائے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔

درایں اثناء یوکرینی وزیراعظم آرسنیے یاتسینیوک نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کررہا ہے اور اس نے جمعہ کی رات سات مرتبہ اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

لیکن روس نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ اس کے طیاروں نے یوکرین میں دراندازی کی ہے۔یاتسینیوک نے یوکرینی سرحد پر ہزاروں روسی فوجیوں کی مشقوں کی اطلاع کے بعد اپنا ویٹی کن کا دورہ مختصر کردیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ روسی فوج یوکرین پر چڑھائی کے لیے سرحد پر مشقیں کررہی ہے۔انھوں نے بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ادھر نیویارک میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں متعین روسی سفیر ویٹالے چرکین کو مشاورت کے لیے فوری طور پر ماسکو طلب کر لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں