.

ایرانی اور اسرائیلی میڈیا میں سعودی میزائلوں کی گونج

ریاض کو نیوکلئیر وار ہیڈز ملنے سے طاقت کا توازن بدل سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی اور اسرائیلی میڈیا ابتک سعودی عرب کی سب سے بڑی جنگی مشقوں میں نمائش کے لئے پیش کئے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی بحث میں غلطاں و پیچاں ہے۔ گذشتہ دنوں 'سیف عبداللہ' کوڈ نام سے سعودی عرب میں ہونے والی جنگی مشقوں میں بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی شرکت کی تھی۔

'سیف عبداللہ' فوجی مشقوں کو ایرانی ذرائع ابلاغ نے بہ نظر غائر دیکھتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ "اگر مملکت نیوکلیئر وار ہیڈز حاصل کر لیتی ہے تو اس کے بعد ریاض کے میزائل مشرق وسطی میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیں گے۔"

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب 'فارس' نیوز ایجنسی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے اس موضوع پر اپنی خبر کو انتہائی حساس انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ "سعودی عرب کی اعلی قیادت نے مملکت کے جدید میزائلوں کی نمائش کا فیصلہ کیا تاکہ ایران کو متنبہ کیا جا سکے۔"

خبر رساں ایجنسی نے اپنے نامعلوم ذرائع کے حوالے مزید دعوی کیا کہ "پاکستانی فوج کے سربراہ کی نگرانی میں متعدد نیوکلیئر وار ہیڈز پاکستان سے سعودی عرب منتقل کئے گئے ہیں۔" فارس نے 'سیف عبداللہ' جنگی مشقوں میں پاکستانی فوجی عہدیدار کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "یہ منتقلی دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے کے تحت عمل میں آئی۔"

روس پر دباو

اپنے ذرائع کے حوالے سے 'فارس' نے مزید کہا کہ سعودی عرب، روس پر دباو ڈالنا چاہتا ہے کیونکہ موخر الذکر شامی حکومت کو مدد فراہم کر رہا ہے جس پر مملکت میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب یورپی اور امریکی موقف کی حمایت کرتے ہوئے یوکرینی بحران میں روس کے کردار پر بھی سعودی عرب اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرنا چاہتا ہے۔

انگریزی زبان میں شائع ہونے والے ایرانی اخبار 'ایران ہیرالڈ' نے اسی موضوع پر خبر کی یہ سرخی جمائی ہے کہ"سعودی عرب میں بیلسٹک میزائلوں کی نمائش"۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ [DF-3] طرز کے درمیانی رینج کے بیلسٹک میزائل کہاں سے آئے، یہ بات فراموش نہیں کی جا سکتی ہے ان سے ایران کو حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ یہ میزائل اپنی بیس سے ایرانی دارلحکومت تہران کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایرانی اخبار نے یہ دعوی کیا کہ سعودی عرب کے پاس DF-21]] طرز کے جدید میزائل بھی موجود ہیں۔ یہ 'سیف عبداللہ' نامی جنگی مشقوں میں نمائش کے لئے پیش کیے جانے والے میزائلوں سے زیادہ جدید ہیں۔

اسرائیلی تلملاہٹ

یاد رہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی اداروں سے وابستہ حلقوں نے بھی سعودی عرب کی 'سیف عبداللہ' جنگی مشقوں کی ایران ہی جتنی تشویش کے ساتھ پیروی کی ہے۔ 'دپیکا' نامی انٹلیجنس ویب پورٹل نے ان مشقوں سے متعلق اپنی رپورٹنگ میں دنیا کو سعودی عرب کے خلاف اکسانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

اسرائیل کے خفیہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے علی الرغم 'دیپکا' ویب پورٹل نے یہ دعوی کرنے میں دیر نہیں لگائی کہ سیف عبداللہ جنگی مشقیں مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی ایک کوشش تھی۔

سیف عبداللہ کوڈ نام سے ہونے والی سعودی عرب کی فوجی مشقوں کے بارے میں اپنی لمبی چوڑی رپورٹ میں 'دپیکا' پورٹل نے سعودی عرب کے بیلسٹک میزائلوں پر خصوصی توجہ دی ہے اور دعوی کیا کہ سعودی عرب خطے میں آئندہ جنگ کو ایٹمی لڑائی بنانے کی امید لگائے بیٹھا ہے۔

درایں اثنا "اسرائیلی ڈیفنس جرنل" نے کہا ہے سعودی عرب کی 'سیف عبداللہ' جنگی مشقیں "ایران کو دھمکانے، خلیجی حلیفوں کو اطمینان دلانے اور تہران کے پیچھے بگ ٹٹ دوڑنے والے واشنگٹن کے لئے ناراضی پر مبنی پیغام تھیں۔"