طالبات کی بازیابی کیلیے امریکی دستہ نائیجریا روانہ

امریکی دستے میں انٹیلیجنس اور نگرانی کے ماہرین شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی انتظامیہ کے سینئیر حکام نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ نائیجیریا کی دو سو سے زائد مغوی طالبات کی بازیابی کیلیے امریکی دستہ روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت بوکو حرام کے اغواکاروں کی طرف سے مغوی طالبات کی نئی ویڈیو سامنے لائے جانے کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ جبکہ امریکی ماہرین اس ویڈیو سے اس امر کاپتہ چلا رہے ہیں کہ ان مغوی بچیوں کو کس علاقے میں رکھا گیا ہے۔

ایک امریکی ذمہ دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا '' ہم نے کمرشل سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر نائیجیریا کے ساتھ شئیر کی ہیں اور نگرانی کرنے والی امریکی ٹیم کو ضروری آلات کے ساتھ متحرک کر دیا ہے، اس سلسلے میں نائیجیریا کی اجازت بھی لی گئی ہے۔''

تاہم امریکی حکام نے فی الحال یہ نہیں بتایا کہ نائیجیریا کی فضاوں میں کون سے طیارے بھیجے گئے ہیں اور انہیں کس علاقے سے نائیجیریا بھجوایا گیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے کہا ہماری انٹیلی جنس سے وابستہ لوگ بوکو حرام کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو کی ایک ایک چیز کو ہر پہلو سے دیکھ رہے ہیں، تاکہ مغوی سکول طالبات کو بچانے میں جو بھی مدد مل سکتی ہو لی جائے۔''

ایک سوال کے جواب میں جین پاسکی نے کہا ''ہمارے پاس اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس ویڈیو کی سند کو چیلنج کریں۔'' واضح رہے بوکو حرام کے لیڈر ابوبکر شکاو نے کہا ہے کہ نئیجیریا بوکو حرام کے ساتھیوں کو رہا کر دے تو ان مغوی طالبات کو رہا کر دیا جائے گا۔

نائیجیریا کی حکومت نے یہ تجویز مسترد کر دی ہے۔ اس بارے میں جین پاسکی نے کہا ''امریکی پالیسی بھی یہی رہی ہے کہ اغوا کاروں کے مجرمانہ اقدام کا انہیں فائدہ نہ ہونے دیا جائے، بشمول تاوان کی ادائیگی کے۔"

اس سے پہلے 30 امریکیوں پر مشتمل ٹیم پچھلے ہفتے نائیجیریا پہنچی تھی تاکہ 16 سے 18 سال تک کی مغوی طالبات کی رہائی کیلیے نائیجیرین حکومت کی مدد کی جا سکے۔ واضح رہے ان طالبات کو 14 اپریل کو اغوا کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاوس کا اس ٹیم کے بارے میں کہنا ہے کہ '' اس ٹیم میں دفتر خارجہ کے پانچ افسروں کے علاوہ مواصلاتی امور کے دو ماہر، ایک سویلین سکیورٹی ایکسپرٹ اور طبی شعبے ایک سینیئر شامل ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے دس افسرپہلے ہی نائیجریا میں موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں