ایران میں دو خواتین سمیت گیارہ ملزمان کو اجتماعی پھانسی
سزائے موت پرعمل درآمد ارومیہ سینٹرل جیل میں کیا گیا
ایرانی ذرائع ابلاغ نے حکام کے حوالے بتایا ہے کہ مختلف جرائم کی پاداش میں دو خواتین سمیت گیارہ افراد کو اجتماعی طور پر پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد شمال مغربی شہر ارومیہ کی سینٹرل جیل میں کیا گیا۔
فارسی زبان کے نیوز ویب پورٹل "موکریان" کے مطابق پھانسی پانے والوں میں کامل سعیدی، کامل حبیبی، زکی خانی، محمد کرجی، مصیب ساداتی، ولی محمد زادہ اور یداللہ محمودی کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان میں چھ ملزمان کومنشیات کا دھندہ اور ایک شخص کو قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی۔ دیگرچار ملزمان کے بارے میں تفصیلات سامنےنہیں آ سکی ہیں۔
خیال رہے کہ پچھلے ہفتے کے روز اسی جیل میں زیرحراست ایک کرد رہ نما حبیب اللہ کلبری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔
گذشتہ ہفتے ہی ایرانی حکام نے تہران کے ولایت فقہیہ کے نظام کی مخالفت کرنے والے سولہ کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ زاہدان شہر کے پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق اجتماعی پھانسی کی یہ سزا ایک بلوچ شدت پسند تنظیم کے ہاتھوں ایرانی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکاروں کی مبینہ ہلاکت کے ردعمل میں دی گئی تھی۔
خیال رہے کہ ایران میں کئی طرح کے جرائم پر پھانسی کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ قتل، عصمت دری، حکومت کے خلاف مسلح بغاوت جیسے الزامات کے تحت سرعام لوگوں کو لٹکا دیا جانا اب معمول بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سےسخت تنقید کے باوجود اجتماعی پھانسی کے واقعات میں کمی نہیں آئی ہے۔